حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 583 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 583

حقائق الفرقان ۵۸۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة بناوٹ میں داخل ہے کہ جزا اور بدلے کے لئے ہوشیار اور سزا سے مضائقہ کرتا ہے۔یہ ایک فطرتی مسئلہ ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ایک بچہ بھی جب دیکھتا ہے کہ یہاں سے دکھ پہنچے گا وہاں سے ہٹتا ہے اور جہاں راحت پہنچتی ہے وہاں خوشی سے جاتا ہے۔چلا چلا کر بھی جزا لینے کو تیار ہو جاتا ہے۔یہاں تک کہ فاسق و فاجر کی فطرت میں بھی یہ امر ہے۔ایک آدمی کبھی پسند نہیں کرتا کہ دوسرے کے سامنے ذلیل وخوار ہو۔ہر ایک چاہتا ہے کہ معزز ہو۔میں نے دیکھا ہے کہ فیل ہونے سے ایک بچہ کو کیسی ذلت پہنچتی ہے۔بعض اوقات ان ناکامیوں نے خود کشیاں کر دی ہیں اور پاس ہونے سے کیسی خوشی ہوتی ہے۔زمینداروں کو دیکھا جب بر وقت بارش نہ ہو ، پھل کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔کیسا رنج ہوتا ہے! لیکن اگر غلہ گھر لے آئے تو کیسا خوش ہوتا ہے! اسی طرح ہر حرفہ وصنعت والا دکاندار۔غرض کوئی نہیں چاہتا کہ محنت کا بدلہ نہ ملے اور بچاؤ کا سامان نہ ہو۔پس جب یہ فطرتی امر ہے تو اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایمان کا جزور کھا ہے کہ جزا وسزا پر ایمان لاؤ اللہ مالک یوم الدین ہے۔روزِ روشن کی طرح اس کی جزا ئیں سزائیں ہیں اور وہ مخفی نہ ہوں گی اور مالکانہ رنگ میں آئیں گی جیسے مالک اچھے کام پر انعام اور برے کام پر سزا دیتا ہے۔اس حصہ پر ایمان لا کر انسان کامیاب ہو جاتا ہے مگر اس میں سستی اور غفلت کرنے سے ناکام رہتا ہے اور قرب الہی کی راہوں سے دُور چلا جاتا ہے۔دوسرا سوال پھر دوسرا سوال جو جبرائیل نے تعلیم الدین کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور آپ نے اس کا جواب دیا وہ ہے مَا الْإِسْلَامُ ؟ اس کا جواب جو پاک انسان خاتم الانبیاء و خاتم الاولیاء خاتم الکمالات کی زبان سے نکلاوہ یہ ہے آنْ نَشْهَدَ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ جو بات انسان کے دل سے اٹھتی ہے ضرور ہے کہ اس کا اثر اس کے اعضاء و جوارح اور مال پر