حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 582
حقائق الفرقان ۵۸۲ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ملتا ہے حصہ دار نہیں ہوتا بلکہ محروم رہ جاتا ہے خواہ ایسا انسان اپنے طور پر کتنی ہی نیکیاں کرتا ہو مگر اس ایک انسان کی مخالفت اور خلاف ورزی سے اس کے اعمال حبط ہو جاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان منشاء کے خلاف کرتا ہے۔اس پر بغاوت کا الزام ہے۔دُنیوی گورنمنٹوں کے نظام میں بھی یہی قانون ہے۔ایک بھلا مانس آدمی جو کبھی بد معاملگی نہیں کرتا۔چوری اور رہزنی اس کا کام نہیں۔تاجر ہے تو چونگی کا محصول اور دوسرے ضروری محاصل کے ادا کرنے میں سستی نہیں کرتا۔زمیندار ہے تو وقت پر لگان ادا کرتا ہے لیکن اگر وہ یہ کہے کہ بادشاہ کی ضرورت نہیں اور اس کے اعزاز و اکرام میں کمی کرے تو یہ شریر اور باغی قرار دیا جاوے گا۔اسی طرح پر ماموروں کی مخالفت خطر ناک گناہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے حضور ہوسکتا ہے۔ابلیس نے یہی گناہ کیا تھا۔انبیاء علیہم السلام کے حضور شیاطین بہت دھو کے دیتے ہیں۔میرے نزدیک وہ لوگ بڑے ہی بد بخت ہیں جو اللہ تعالیٰ کے منشاء کے خلاف کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ذرہ ذرہ اس پر لعنت بھیجتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ معزز و مکرم اور مطاع ہو تو اس کی مخالفت کرنے والا تباہ نہ ہو تو کیا ہو؟ یہی بستر ہے جو انبیاء و مرسل اور مامورین کے مخالف ہمیشہ تباہ ہوئے ہیں۔وہ جرم بغاوت کے مجرم ہوتے ہیں۔پس کتابوں کے بعد رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے ورنہ انسان متکبر ہو جاتا ہے اور پہلا گناہ دین میں خلیفہ اللہ کے مقابل یہی تھا آبی وَاسْتَكْبَر۔اس میں شک نہیں کہ سنت اللہ اسی طرح پر ہے کہ ماموروں پر اعتراض ہوتے ہیں۔اچھے بھی کرتے ہیں اور برے بھی۔مگر اچھوں کو رجوع کرنا پڑتا ہے اور برے نہیں کرتے۔مگر مبارک وہی ہیں جو اعتراض سے بچتے ہیں کیونکہ نیکوں کو بھی آخر مامور کے حضور رجوع اور سجدہ کرنا ہی پڑا ہے۔پس اگر ملک کی طرح بھی ہو پھر بھی اعتراض سے بچے کیونکہ خدا تو سجدہ کرائے بغیر نہ چھوڑے گا ورنہ لعنت کا طوق گلے میں پڑے گا۔جزا و سزا اس کے بعد پانچواں رکن ایمان کا جزا و سزا پر ایمان ہے۔یہ ایک فطرتی اصل ہے اور انسان کی