حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 575 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 575

حقائق الفرقان ۵۷۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة دیکھا جماع الاثم ( خمر ) اور حبائل الشیطان ( عورت ) سے کس طرح روکا۔پھر نماز کی تاکید کی۔جو شخص پانچ نمازوں کا پابند ہے وہ کبیرہ گناہ شراب وغیرہ کا ارتکاب بھی نہیں کرے گا۔پھر اسلام میں مال حرام سے ممانعت کی۔شراب وغیرہ کا پینا مال کثیر پر موقوف ہے اور مال کثیر زیادہ تر طریقِ حرام ہی سے آتا ہے اس لئے منع کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے اللَّهُمَّ ارْزُقُ الَ مُحَمَّدٍ قُوْتًا - پھر اسلام میں جزا وسزا کا مسئلہ ہے۔یہ بھی کل گنا ہوں سے روکنے والا ہے۔پھر اسلام کا یہ اصل کہ وہ تمام پسندیدہ امور کے کرنے اور قبیحہ امور کے نہ کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک موقع پر فرما رہے تھے كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ _ (ال عمران : ۱۱۱) ایک قوم نے اپنا سفیر واسطے تحقیق دینِ اسلام کے بھیجا تھا وہ یہ کلمہ سنتے ہی واپس گیا اور اپنی قوم سے جا کر کہا سب مسلمان ہو جاؤ۔وہ حیران ہوئے تو اس نے بتایا کہ جس مذہب کا اصل امر بالمعروف، نہی عن المنکر ہو وہ کیونکر برا ہو سکتا ہے بلکہ اس میں نہ داخل ہونے والا برا ہے۔فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ۔طاغوت طغووت سے نکلا ہے۔حد بندی سے آگے بڑھنے والے کو طافی کہتے ہیں۔سیلاب کو بھی طغیانی اسی لئے کہتے ہیں کہ پانی ندی کی حد مقررہ سے باہر نکل کر اچھلتا ہے۔شریعت نے ہر بات کے لئے حد رکھی ہے پس جو اس حد سے نکلا ہے وہ طاغی ہوا اور جو تمام حد بندیوں کو تو ڑ کر نکل جاوے وہ طاغوت کہلاتا ہے۔پس جو حضرت حق سبحانہ کا، جو منزہ ہے تمام عیوب و نقائص سے اور جامع ہے کمالات و خوبیوں کا ، فرمانبردار ہو تو فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُروة الوثقی اس نے بڑی مضبوط پکڑنے کی چیز کو پکڑا۔غروہ کہتے ہیں پکڑنے کی چیز کو۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۸ مؤرخه ۶ رمئی ۱۹۰۹ء صفحه ۴۶،۴۵) ا تم نیک ترین امت ہو پیدا کئے گئے ہولوگوں کے لئے تم نیک کاموں کا حکم کرتے ہو اور بڑے کاموں سے منع کرتے ہو۔(ناشر)