حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 576 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 576

حقائق الفرقان ۵۷۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَى - دین کے معاملہ میں جبر نہیں۔وہ کھلی چیز ہے۔رشد اور غنی الگ الگ چیزیں ہیں۔رُشد اختیار کرنے اور غنی کے چھوڑنے میں کسی اکراہ کی ضرورت نہیں۔اس آیت میں تین لفظ ہیں دین، رُشد اور غی۔الدین۔اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں جو دین کی توضیح اور تفسیر فرمائی ہے وہ یہ ہے ان الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسلام - اللہ تعالیٰ کے حضور دین کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے؟ الْإِسلام اپنی ساری قوتوں اور طاقتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہو جائے۔اللہ تعالیٰ کے فرمان کو لے اور اس پر رُوح اور راستی سے عمل درآمد کرے۔دین کے متعلق جبرائیل علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور سوال کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلکہ ہم کو آگاہ کیا ہے کہ یہ جبرائیل تھا۔آتَاكُمْ لِيُعَلِّمَكُمْ دِينَكُمْ۔پس دین کی حقیقت اور اس کا صحیح اور سچا مفہوم وہ ہو گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بیان فرمایا۔الاسلام کے معنے یہ ہیں۔سر رکھ دینا۔جان سے۔دل سے۔اعضاء سے۔مال سے۔غرض ہر پہلو اور ہر حالت میں اللہ تعالیٰ ہی کی فرمانبرداری کرنا۔دین کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہت سی چیزیں عطا فرمائی ہیں جن کے ذریعہ ہم اس کی کامل اطاعت ، فرمان پذیری اور وفاداری کا اظہار کر سکتے ہیں اور پھر ان کے وراء الورا اندر ہی اندر قوی پر حکمرانی کر سکتے ہیں اور ان کو الہی فرمانبرداری میں لگا سکتے ہیں۔غرض دین کی اصل حقیقت جو قرآن شریف نے بتائی ہے وہ مختصر الفاظ میں کامل وفاداری ، سچی اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے۔الدین کا پہلا کن یعنی الایمان۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کے توسط سے جو کچھ صحابہ کو اور ہم کو سکھایا ہے وہ ان سوالات میں بیان ہو ا ہے جو صحابہ کی موجودگی میں جبرائیل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے اور جن کی اصل غرض لِيُعَلِّمَكُمْ دِينَكُمْ تھی۔ان میں - پہلا یہ ہے۔مَا الإِیمَانُ ؟ یا رسول اللہ ! ایمان کس چیز کا نام ہے؟ فرمایا آن تُؤْمِنَ بِالله ایمان کی