حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 574 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 574

حقائق الفرقان ۵۷۴ سُورَةُ الْبَقَرَة اور حق تک پہنچ جانا۔غی کہتے ہیں اس حق وصواب کی جگہ سے رُک جانے کو۔اسلام کے چند اصول بیان کرتا ہوں جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں رُشد وغی کو کیا امتیاز سے بیان کیا ہے۔فرمایا۔شرک نہ کرو۔وعید بتلایا۔إِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ (النساء: ٢٩) کوئی حضرت مسیح کو پوجے یا امام حسین یا سید عبدالقادر جیلانی کو یا درخت یا تالاب۔پہاڑ۔جانور کوسب برابر ہیں کیونکہ یہ سب چیزیں خادم ہیں سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّبُوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ( الجاليه: ۱۳) پس جو مخدوم ہونے کی بھی حیثیت نہیں رکھتی وہ تمہاری معبود کس طرح بن سکتی ہے؟ انجیل۔وید ند وستا بدھ کی تعلیم میں میں نے عظمت النبی کی یہ راتیں ہر گز نہیں پائیں۔قرآن کا ایک ایک رکوع مسلمانوں کو توحید کا سبق دیتا ہے پھر بھی اگر یہ شرک میں گرفتار رہیں تو ان کی قبردیتی۔کیا خوب فرما یا ابْغِيكُمُ الهَا وَهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعَلَمِينَ (الاعراف:۱۴۱) تم خود جہان والوں سے افضل اور پھر انہی میں سے کوئی چیز تمہاری معبود بنے؟۔پھر اسلام میں عام اخلاق کی نسبت دیکھو کہ شراب سے بڑی سختی کے ساتھ منع کیا کیونکہ یہ سب برائیوں کی جڑ ہے۔ایک شخص ایک عورت پر عاشق ہو گیا۔اس نے کہا وصل کی شرط میں اس بت کی پرستش کرو۔۲۔خاوند کو قتل کر دو۔۳۔شراب پی لو۔اس نے کہا کہ ایک شراب پینا مان لیتا ہوں باقی بہت خوفناک گناہ کے افعال میں نہ کروں گا۔جب شراب پی تو پھر دوسری چیزوں کا بھی مرتکب ہو گیا۔اسلام کا تیسرا اصول۔پردے کی تعلیم ہے۔میں نے کسی کتاب میں جو خدا کی طرف منسوب کی جاتی ہے یہ تعلیم نہیں پائی۔قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ اور قُلْ لِلْمُؤْمِنَتِ يَغْضُضْنَ مِنْ ابْصَارِهِنَّ (النور: ۳۱، ۳۲) مومن مرد اور عورتیں بیچی اور نیم باز نگاہیں رکھنے کی عادت ڈالیں۔لے بے شک اللہ یہ قصور نہیں معاف کرتا کہ کسی کو اُس کے برابر سمجھا جائے، اُس کا شریک کیا جائے۔سے اور تابع کر دیا تمہارے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں سب کا سب سے میں تم کو لادوں کوئی اور معبود حالانکہ اُس نے بزرگی دی تم کو موجودہ سب جہان والوں پر۔(ناشر) ہے ایماندار مردوں سے کہہ دے کہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں۔اور ایماندار عورتوں سے کہہ دے نیچی نگاہ رکھا کریں اپنی۔