حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 573
حقائق الفرقان ۵۷۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔تفسیر۔لا اکراہ فی الدین۔ایک انبیاء کی راہ ہوتی ہے ایک بادشاہوں کی۔انبیاءکا یہ قاعدہ نہیں ہوتا کہ وہ ظلم و جور و تعدی سے کام لیں۔ہاں بادشاہ جبر و اکراہ سے کام لیتے ہیں۔پولیس اس وقت گرفت کر سکتی ہے جب کوئی گناہ کا ارتکاب کر دے مگر مذہب گناہ کے ارادہ کو بھی روکتا ہے۔پس جب مذہب کی حکومت کو آدمی مان لیتا ہے تو پولیس کی حکومت اس کی پر ہیز گاری کے لئے ضروری نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جبر وا کراہ کا تعلق مذہب سے نہیں۔پس کسی کو جبر سے مت داخل کرو کیونکہ جو دل سے مومن نہیں ہوا وہ ضرور منافق ہے۔شریعت نے منافق اور کا فرکو ایک ہی رہتی میں جکڑا ہے۔غلطی سے ایسی کہانیاں مشہور ہوگئی ہیں کہ اسلام بزور شمشیر دنیا میں پھیلا یا گیا ہے۔بھلا خیال تو کر واگر اسلام میں جبر جائز ہوتا تو ہندوستان میں اتنے سو سال حکومت رہی پھر یہ ہزاروں برسوں کے مندر،شوالے اور ٹیسٹکیں کیوں موجود پائی جاتیں؟ عالمگیر کو بھی الزام دیتے ہیں کہ وہ ظالم تھا اور بالجبر مسلمان کرتا۔یہ کیسی بیہودہ بات ہے۔اس کی فوج کے سپہ سالار ایک ہندو تھے۔بڑا حصہ اس کی عمر کا اپنے بھائیوں سے لڑتے گزرا۔اس کی موت بھی تاناشاہ کے مقابل میں ہوئی۔پھر اسلام بادشاہوں کے افعال کا ذمہ دار نہیں۔مسلمانوں نے یہی غلطی کی کہ معترضین کے مفتریات کو تسلیم کر لیا حالانکہ اسلام دلی محبت و اخلاق سے حق بات ماننے کا نام ہے۔اسی لئے اسلام میں جبر نہیں۔یہ آیت ضروری یاد رکھنی چاہیے۔اسلام میں ہرگز اکراہ نہیں۔چنانچہ پارہ گیارہ رکوع ۱۰ میں فرماتا ہے۔وَ لَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنين - (يونس: ١٠٠) قَد تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ - رُشد کہتے ہیں اصَابَةُ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ یعنی واقعی بات کو پالینا لے اور اگر تیرا رب چاہتا ( یعنی جبراً ) تو ضرور ایمان لے آتے سب کے سب جو زمین میں ہیں اکٹھے تو کیا تو زبر دستی کر سکتا ہے لوگوں پر کہ وہ ایمان لا ہی لیں۔