حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 48 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 48

حقائق الفرقان ۴۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ۔یہ وہ لکھی ہوئی چیز ہے۔لکھی ہوئی اس لئے فرمایا کہ جب آیت نازل ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے اہتمام سے اپنے سامنے لکھا لیتے۔دوسری وجہ یہ کہ کتيبة لشکر کو بھی کہتے ہیں اور جیسے لشکر بہت سے افراد کو اپنے اندر جمع رکھتا ہے اسی طرح یہ کتاب بہت سے مضامین کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے اور جیسے لشکروں سے دشمن بھاگتے ہیں ایسے ہی شبہات انسانیہ اس کتاب کے لشکر سے بھاگ جاتے ہیں اسی لئے فرما یا لا ریب یعنی یہ ایک ایسی عظیم الشان کتاب ہے جس کے عظیم الشان ہونے میں کچھ بھی شک نہیں یا جس میں کسی قسم کی کوئی شبہ والی بات نہیں۔پھر ذلِكَ الْكِتب لا ریب میں جو فرمایا یہی ایک کتاب ہے تو اس سے ظاہر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ نے اور کوئی ایسی کتاب نہیں دیکھی جس کو ”کتاب“ کہا جا سکے۔آپ کے زمانہ میں یہی ایک کتاب تھی جو حقیقی معنوں میں کتاب کہلا سکے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ فروری ۱۹۰۹ ء صفحه ۳) ذلك الكتب - یہی کتاب ہے کہ جس کے ہوتے ہوئے اور کوئی کتاب، کتاب کہلانے کی مستحق نہیں۔اس کا ثبوت نبی کریم اور آپ کی جماعت نے اپنی عملی حالت سے یوں دیا ہے کہ جب تک انہوں نے قرآن کی اشاعت نہیں کر لی تب تک کوئی دوسری کتاب بالکل نہیں لکھی۔نبی کریم نے اس کا ادب یہ کیا ہے کہ جن امور کے دلائل قرآن شریف نے بیان کئے ہیں ان امور پر آپ نے کوئی سلسلہ دلائل کا بیان قطعا نہیں کیا۔الكتب - مكتوب (من اللہ )۔حدیث میں ہے کہ جب جبرائیل قرآن شریف لاتے تو حریر پر لکھا ہوا ہوتا اور خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کا تب موجود ہوتے تھے جب آیت نازل ہوتی بڑی احتیاط سے اسی وقت لکھائی جاتی۔لا رَيْبَ - رَيْب کے معنے ہلاکت۔یعنی کوئی ہلاکت اور شک نہیں عربی زبان میں ریب کا لفظ (البدر جلد نمبر ۱۲ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۹۶) جھوٹ پر بھی بولا جاتا ہے۔ذلِكَ الْكِتب۔۔۔۔۔ابن عباس ، مجاہد ، سعید ، اخفش ، ابوعبیدہ نے کہا ہے کہ یہاں پر اس