حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 565 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 565

حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْبَقَرَة فَلَمَّا فَصَلَ۔شہر سے جدا ہوئے۔إِنَّ اللهَ مُبْتَلِيكُم۔ابتلا کہتے ہیں اس امر کو جس کے ذریعے فرمانبردار اور نافرماں بردار، کچے اور پکے میں امتیاز ہو جاوے۔جب طالوت ایک فوج لے کر چلے تو کئی تماش بین بھی ساتھ ہو لئے اس لئے آپ نے ایک امتحان میں ڈالا تا جو حقیقی فرمانبردار ہیں وہ میرے ساتھ رہیں۔نَهَرْ۔اس کے دو معنے ہیں ایک تو نہر۔دوم آرام و آسائش۔چنانچہ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّتٍ وَنَهَرٍ القمر : ۵۵) میں نھر کے معنے آسائش کے ہیں۔نظر کے معنے ہوں تو کیا متقی نہر میں ڈوبے رہیں گے؟ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیسَ مِنی۔اس جنگل میں شہد بہت تھا۔پس جب نھر کے معنے آسائش کے ہوں تو اس سے مراد شہد کا پینا ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۸ مورخه ۴ رمئی ۱۹۰۹ء صفحه ۴۳) فَإِنَّهُ مِنِّي - أَنْتَ مِٹی و انا منك " کے معنی حل ہوتے ہیں۔تشخیز الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۴۳) إلَّا قَلِيلًا مِّنْهُم - ایک علم ہوتا ہے ایک عمل شنیدہ گے بود مانند دیده! ليس الخبر كَالْمُعَايَتة! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوسف کے معاملہ میں ( جب ان کے پاس چوبدار آیا کہ بادشاہ تمہیں بلاتا ہے اور وہ نہ گئے ) فرمایا کہ اگر میں ہوتا تو چلا جاتا مگر خود جب مسجد سے قریب اپنی ایک بیوی کے ساتھ کھڑے تھے اور پاس سے کچھ آدمی گزرے تو آپ نے انہیں روک لیا اور کہا دیکھو یہ میری بیوی صفیہ ہے!! يظنون۔یقین کرتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۸ مؤرخه ۶ رمئی ۱۹۰۹ صفحه ۴۳) لے بے شک متقی لوگ باغوں میں اور ہر طرح کی ترقی میں ہیں۔۲۔تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔سے سنی سنائی بات آنکھ سے دیکھی ہوئی بات کی طرح نہیں ہوسکتی۔(ناشر)