حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 562
حقائق الفرقان ۵۶۲ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ۲۴۸ - وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللهَ قَد بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِحًا قَالُوا أَنَّى يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُوتَ سَعَةً مِّنَ المَالِ قَالَ اِنَّ اللهَ اصْطَفْهُ عَلَيْكُمْ وَ زَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَ اللهُ يُوتِي مُلكَهُ مَنْ يَشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ۔ترجمہ۔اُن سے کہا اُن کے پیغمبر نے بے شک اللہ نے مقرر فرمایا تمہارے لئے ایک قد آور بادشاہ۔قوم نے کہا اس کی حکومت ہم پر کب ہو سکتی ہے حالانکہ ہم حکومت کے زیادہ حق دار ہیں اُس سے اور وہ تو نہیں دیا گیا فارغ البالی مال سے۔نبی نے کہا کہ اللہ نے پسند فرمایا ہے اُس کو تم پر اور اُس کو کشادگی دی علم اور جسم میں اور اللہ دیتا ہے اپنا ملک جس کو چاہتا ہے اور اللہ بڑی وسعت دینے والا بڑا جاننے والا ہے۔تفسیر۔وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ - یہ بہت سوچنے کی بات ہے کہ خدا کے انتخاب پر آدم سے ایں دم تک ایک اعتراض ہوتا چلا آیا ہے۔پہلے آدم پر اعتراض کیا گیا پھر داؤد کا ذکر کہ دشمن قلعہ کی دیواریں پھاند کر چڑھ آئے مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے یدَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ - (ص:۲۷) ہماری سرکار پر بھی اعتراض ہوا کہ قرآن عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ (الزخرف: ۳۲) پر کیوں نہ اترا۔پھر ہمارے امام پر بھی کم اعتراض نہ ہوئے۔لوگ کہتے رہے کہ الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ امامت بنو فاطمہ کا حق ہے۔مغلوں کو کیوں دی؟ ایک شخص نے مجھے کہا پنجاب کے ایک کوردہ کا رہنے والا ہے۔کم از کم دہلی کا تو ہوتا۔جواب دیتا ہے کہ زاده بسُطَةٌ فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ یہ علم وقوت میں تم سے بڑھ کر ہے اس کو نہیں مانتے تو کم از کم یہ خیال تو کرو کہ اللہ تم سے وسیع علم والا ہے اور یہ اس کا انتخاب ہے۔وہ مالک ہے جسے چاہے سلطنت دے۔( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۸ مؤرخه ۶ رمئی ۱۹۰۹ء صفحه ۴۳) لے اے داؤد ! ہم نے تجھ کو بنا یا نا ئب ملک میں۔کہ بڑے آدمی پر دو بڑی بستیوں کے رہنے والوں سے۔(ناشر)