حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 561
حقائق الفرقان ۵۶۱ اللہ تعالیٰ۔اور اللہ لیتا ہے اور بڑھاتا ہے اور اسی کی طرف تم جاؤ گے اور بدلہ پاؤ گے۔سُورَةُ الْبَقَرَة ( نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۸۱،۲۸۰) ۲۴۷ - الم تَرَ إِلَى الْمَلَا مِنْ بَنِي إِسْرَاءِيلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَى إِذْ قَالُوا لِنَبِي b لَهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِحًا تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللهِ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ الاَ تُقَاتِلُوا قَالُوا وَمَا لَنَا أَلَّا تُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أخْرِجُنَا مِنْ دِيَارِنَا وَ ابْنَا بِنَا فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوا إِلَّا قَلِيلًا ط مِنْهُمْ وَاللهُ عَلِيمٌ بِالظَّلِمِينَ ترجمہ۔کیا نظر نہیں کی تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کے حال پر موسیٰ کے بعد جب انہوں نے کہا اپنے نبی سے ٹھہرا دے ہمارے لئے ایک بادشاہ ہم لڑیں اللہ کی راہ میں۔اُس نبی نے کہا کیا عجب ہے اگر فرض ہو جائے تم پر جہاد اور تم نہ لڑ وانہوں نے جواب دیا ہمیں کیا عذر ہے کہ ہم نہ لڑیں اللہ کی راہ میں حالانکہ ہم نکالے گئے ہیں اپنے گھروں سے اور اپنے بال بچوں سے پھر جب فرض ہو گیا اُن پر جہاد تو پیٹھ پھیر بیٹھے سب مگر چند آدمی اُن میں کے (اللہ کی راہ میں مضبوط رہے ) اور اللہ بخوبی جانتا ہے ظالموں کو۔تفسیر مِنْ بَعْدِ مُولی۔مِنْ بَعْدِ لانے سے صاف ظاہر ہے کہ پہلا واقعہ موسی کے زمانہ کا ہے۔قَالُوا لِنَبِي لَهُمُ۔اس زمانہ میں جوڑ وحانی بادشاہ ہوتا اُسے نابیل کہتے۔اس قصہ میں اللہ مسلمانوں کو سمجھاتا ہے کہ ایک وقت آئے گا تم میں بھی روحانی بادشاہ الگ ہو جاویں گے اور جسمانی الگ۔چنانچہ ابوبکر و عمر مدینہ کی خلافت تک روحانی و جسمانی بادشاہ جمع رہے پھر ملک الگ منتخب ( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۷ مؤرخہ ۱/۲۹ پریل ۱۹۰۹ء صفحه ۴۲) ہوتے رہے۔ے عبرانی زبان میں سے ملک : بادشاہ۔(ناشر)