حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 560
حقائق الفرقان ۵۶۰ سُوْرَةُ الْبَقَرَة پس اللہ تعالیٰ اس کو اس کا بڑھا کر اجر دے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ ص اللهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْحِفَهُ لَةَ أَضْعَافًا كَثِيرَةً وَاللهُ يَقْبِضُ وَ يَبْقَطُ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (البقرة: ۲۴۶) جیسے ترک اسلام لکھ کر تو نے ہم کو مقروض کیا تو ہم نے خدا کے فضل سے الزامی جوابوں سے اور پھر تحقیقی جوابوں سے مع تمہارے اصل سوالوں کے وہ قرضہ مع شیء زائد ادا کر دیا۔اللہ تعالیٰ اس دینے والے کو اس کے اجر میں بہت بڑھا کر دے۔آمین۔یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہر ایک نیکی کا بدلہ بڑھ چڑھ کر دیتا ہے۔دوسری ایک آیت اس کی تصریح کرتی ہے اور وہ یہ ہے الَّذِینَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَ اللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ (البقرة - ۲۶۲)۔خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے والوں کی مثال اُس دانہ کی ہے جس نے سات بالیاں نکالیں ہر بالی میں سودانے۔اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے اس سے بھی بڑھ چڑھ کر دیتا ہے۔قرآن مجید میں صاف موجود ہے۔الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ اغْنِيَاءُ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا (ال عمران : ۱۸۲) یعنی کا فر ہیں جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔کیا معنی؟ ہم ان کی بات کو محفوظ رکھیں گے۔اور فرمایا۔يَأَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاءِ إلَى اللهِ وَاللهُ هُوَ الْغَنِيُّ (فاطر :(۱۶) اے لوگو تم اللہ کے محتاج ہوا اور اللہ ہی غنی ہے۔قرآنی صداقتیں تو ہر جگہ اور ہر وقت نمایاں ہیں۔کیا جو شخص پر امیسری نوٹ لیتا یا سیونگ بینک میں ایک غریب سود خوار اپنا روپیہ رکھتا ہے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ گورنمنٹ غریب ہے۔ہر گز نہیں۔رہی یہ بات کہ خدا کے سپرد کیا ہوا مال بڑھتا ہے یا نہیں اس امر کی صداقت تمام جہان کو کھیتوں کے نظارہ سے ظاہر ہو جاتی ہے کہ ایک ایک دانہ سے کتنا غلہ حاصل ہو جاتا ہے۔یہی مطلب ہے اس آیت کا جس میں لکھا ہے مَنْ ذَا الَّذِى يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْحِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةٌ وَاللهُ يَقْبِضُ وَيَبْقُطُ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (البقرة: ۲۴۶) اس کا ترجمہ ہو ا کون ہے جو اللہ کے حضور اعلیٰ نیکی کرے ( یا اس کی رضا کے لئے مال کو دے) بڑھا کر دے گا اس کے لئے