حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 558
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْبَقَرَة الفسِقِينَ (المائدة:٢٢) قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِيْنَ سَنَةً يَتِيْهُونَ فِي الْأَرْضِ فَلَا تَأسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفُسِقِينَ (المائدة: ۲۷) کہ چالیس سال خراب خستہ حال مارے مارے جنگلوں میں پھرتے رہیں۔چنانچہ جب یہ لوگ جو بے ادبی میں شامل تھے ہلاک ہو چکے اور چالیس سال میں ان کے بچے جوان ہوئے یا وہ لوگ رہ گئے جو بے ادبی میں شریک نہ تھے۔تو پھر ثُمَّ احْيَاهُم - ان کو زندہ قوم بنا دیا۔ھے۔سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہی مر کر زندہ ہوئے بلکہ متکلم مخاطب غائب کا ضمیر اس کے مثیل کی طرف بھی پھرتا ہے۔متکلم کی مثال سُنئے۔مَا قُتِلْنَا هنا (ال عمران: ۱۵۵) ہم اس جگہ مقتول نہ ہوتے۔حالانکہ جو قتل ہو چکے ہیں وہ کس طرح بول سکتے تھے۔مراد ان کے مثیل ہیں۔مخاطب کی مثال وَاذْ قُلْتُمْ يمُوسى لَنْ تُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللهَ جَهْرَةً (البقرة :۵۶) غائب کی مثال ما يُعَمرُ مِنْ مُعَيَّرٍ وَلَا يُنْقَصُ مِنْ عُمُرِةٍ (فاطر : ۱۲) جس کی عمر بڑھائی گئی اُسی کی گھٹانے کا ذکر بظاہر معلوم ہوتا ہے مرا داس کا مثیل ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۷ مؤرخه ۱/۲۹ پریل ۱۹۰۹ صفحه ۴۲،۴۱) ۲۴۵ - وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ - ترجمہ۔اور اے مسلمانو! اللہ کی راہ میں لڑو اور جانو کہ اللہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔تفسير - وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ - دشمن کا مقابلہ کرومگر اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے نفسانی غرض شامل نہ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۷ مورخه ۱/۲۹ پریل ۱۹۰۹ء صفحه ۴۲) ہو۔لے تو جدائی کر دے ہم میں اور فاسق نافرمان قوم میں سے اللہ نے فرمایا وہ ملک ان پر حرام ہوا چالیس برس، ہلاک ہو جاویں ملک میں۔تو نافرمان قوم پر کچھ افسوس نہ کرنا۔سے ہم یہاں مارے ہی نہ جاتے۔۴۔پھر جب تم نے موسیٰ سے کہا کہ اے موسیٰ ! ہم تیری باتوں کو ہرگز نہیں مانیں گے جب تک کہ ہم خود اللہ کو علم کلا سامنے نہ دیکھ لیں۔۵۔نہ کوئی عمر دیا جاتا ہے بڑی عمر والا اور نہ کسی کی عمر کم کی جاتی ہے۔(ناشر)