حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 557
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْبَقَرَة لیتا ہے۔مثلاً فاقہ کرنا۔پھر گھر میں جو سیانا ہو اس کی رائے پر چلنا۔پھر اپنے محلہ کے حکیم سے مشورہ لیتا ہے پھر اس طبیب سے جو بڑا ہو۔یہاں تک کہ پھر کسی اور مشہور طبیب کی طرف رجوع کرتا ہے جو کسی دوسرے شہر میں ہو۔آخر یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ پھر وہ اس ملک کو چھوڑ کر محض علاج کی خاطر دوسرے ملک میں چلا جاتا ہے۔جب وہاں بھی کچھ نہیں بنتا تو پھر کسی خدا رسیدہ کے قدموں پر گرتا ہے۔جب وہاں سے بھی مایوسی ہو تو پھر پکار اُٹھتا ہے لَا إِلَهَ إِلَّا انْتَ سبحْنَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ (الانبياء: ۸۸) تب خدا کی رحمت کا دریا جوش مارتا ہے اور وہ اسے شفا دیتا ہے۔اسی طرح بنی اسرائیل کی حالت جب یہاں تک پہنچی تو انہوں نے خدا کے حضور تضرع کیا اور موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔وہ انہیں اس ملک سے نکال لائے وہاں ان کے لئے کیا تھا ؟ يُذَ بِحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ (البقرۃ:۵۰) اولا د کو ذبح کرنے اور عورتوں کو بے پرد کرنے کی تجویزیں تھیں۔پس یہ حَذَرَا لَمَوْتِ تھا جس سے ہزارو ہزار اس ملک سے نکلے۔اب موسیٰ نے ان کو حکم دیا يُقَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللهُ لَكُمْ (المآئدۃ: ۲۲) مگر انہوں نے بے ادبی سے کہا کہ وہ زور آور ہیں ہم سے تو مقابلہ نہیں کیا جاتا جاؤ تم اور تمہارا خدا لڑو۔اس پر اللہ نے فرمایا ہم نے تمہیں زندہ قوم بنانے کے لئے اپنے نبی کی معرفت یہ حکم دیا تھا نہیں مانتے تو جاؤ۔موتوا۔ہلاک ہو جاؤ۔اس پر ان پر وہ حالت طاری ہوئی جو 4 پارہ سورہ مائدۃ رکوع ۴ میں درج ہے اور وہ موسی کی دعا کا اثر تھا جو انہوں نے ان الفاظ میں کی۔فَافُرُقُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ لے کوئی سچا معبود نہیں تیرے سوا۔تیری پاک ذات بے عیب ہے میں ہوں کمزور مصیبتوں میں پھنسا ہوا۔تمہارے بیٹوں کو وہ ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو وہ جیتا رہنے دیتے تھے۔سے اے قوم! اُس پاک ملک میں داخل ہو جاؤ جس کو اللہ نے تمہارے لئے محفوظ رکھا ہے اور لکھ دیا ہے کہ وہ تمہیں کو ملے )۔(ناشر)