حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 556
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْبَقَرَة ابھی تمہیں ان بدکاریوں سے کچھ تعلق ہے۔یوسف کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا پاک معاملہ تھا۔جس ملک میں وہ رہتا ( تھا) ان کے لئے ترقی کے سامان نہ تھے۔اللہ نے انہیں ایک عجیب تدبیر سے مصر پہنچایا۔وہاں جب پہنچے تو ان کی نیکی، نیک نیتی ، عاقبت اندیشی، علم و دیانت، شجاعت ایسی تھی کہ مقربانِ بارگاہ بادشاہی سے بنا دیا۔خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اب بھی جو بچہ ان خصلتوں کو لازم پکڑے گا ان مدارج کو پہنچے گا جن پر یوسف علیہ السلام پہنچایا گیا۔چنانچہ فرماتا ہے۔وَ لَمَّا بَلَغَ أَشُدَةَ أَتَيْنَهُ حُكْمًا وَ عِلْمًا ۖ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (يوسف:۲۳) پس انہی حضرت یوسف کے طفیل بنی اسرائیل مصر میں آباد ہوئے۔میں نے بار ہا بتایا ہے کہ جب خدا کے فضل سے کوئی قوم مالدار اور آسودہ حال ہوتی ہے اور اسے عزت ، مکان ، اولاد، صحت و عافیت ، جتھا مل جاتا ہے تو وہ خدا کو بھلا دیتی ہے۔کبھی تو اس کے افراد علموں پر گھمنڈ کرتے ہیں چنانچہ ایک نے کہا إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَى عِلْمٍ عِنْدِي (القصص: ۷۹) ہم مولوی فاضل ہیں یا حکیم ہیں یا مد تر ہیں اس لئے ہم کو یہ کامیابی ہوئی اور کبھی مال و منال ، جاہ وجلال پر غزہ کرتے ہیں۔جب قوم کی یہ حالت ہو جاتی ہے تو پھر اس کا تنزل شروع ہوتا ہے پھر بعض کی تو قطع نسل ہو جاتی ہے اور وہ بالکل بے نام و نشان ہو جاتے ہیں اور بعض حاکم سے محکوم بن جاتے ہیں اور ان کا نام عزت سے نہیں لیا جا تا۔بنی اسرائیل پر جب یہ زمانہ آیا تو وہ خدا کے احکام کو بھول گئے اور خدا نے ان پر ذلت و مسکنت لیس دی۔بیگاروں میں پکڑے جاتے۔پزاوے پکانے کا کام ان کے سپرد ہوا۔ایک صوفی لکھتا ہے کہ انسان کا قاعدہ ہے کہ جب اس کے پیٹ میں درد ہو تو پہلے وہ اپنی تدبیروں سے کام ا اور جب یوسف اپنی جوانی کو پہنچا تو ہم نے اس کو جو کچھ سکھایا وہ مضبو ط علمی با تیں تھیں اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ہمارے دیکھنے والوں نیکو کاروں کو۔۲؎ اس کے سوا نہیں کہ یہ مال تو دیا گیا ہے یا مجھ کو ملا ہے میرے تجربہ اور کمال سے۔(ناشر)