حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 551
حقائق الفرقان ۵۵۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة تو کوئی گناہ نہیں۔وَاتَّقُوا الله - بس اصل حقیقت تو یہ ہے کہ خواہ جہاد کے مسئلے ہوں یا تمدن و معاشرت کے ، ان میں بہر حال تقوی مد نظر رکھو۔اب منتقی بنے کا ایک گر بتاتا ہے۔وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيْرُ۔جب تم کوئی کام کرو۔کوئی بھی ہو۔اصولاً تین نوع میں گل کام آ سکتے ہیں۔غضب و انتقام ایک۔غرض دنیوی حرص دو۔شہوت ، شجاعت تین۔سب میں یہ بات یادرکھو کہ تم پر کوئی حکمران اور نگران ہے۔تمام افعال و اقوال میں اگر انسان اس دستور العمل کو نگاہ رکھے تو تقی بن جاوے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۷ مؤرخه ۱۷۲۹ پریل ۱۹۰۹ صفحه ۴۱٬۴۰) ۲۳۵ - وَ الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۚ فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ في أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ - ترجمہ۔اور جو لوگ تم میں سے مر جائیں اور چھوڑ جائیں بیبیاں تو وہ اپنے کو چار مہینے دس دن رو کے رہیں پھر جب وہ اپنی عدت کی مدت پوری کر چکیں تو کچھ گناہ نہیں تم پر اگر وہ جائز طور پر کچھ اپنے حق میں کر لیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے بخوبی خبر رکھتا ہے۔تفسیر۔وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ۔تین صورتیں ہیں۔ایک تو یہ کہ حاملہ ہو۔اس صورت میں دوسرا نکاح نہ کرے جب تک بچہ نہ جن لے۔دوم یہ کہ حاملہ نہ ہو اس صورت میں چار ماہ دس دن انتظار کرے۔بصورت فوتیدگی شوہر اور بصورت طلاق دینے کے۔ثَلثَةَ قُرُوءٍ یہ سب اس لئے کہ شاید حمل ہو تو اس مدت میں پتہ لگ جاتا ہے یا پچھلے تعلقات زناشوئی کا لحاظ مقصود ہے۔فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ۔بیوہ کے نکاح ثانی کے متعلق اکثر مسلمان تامل کرتے ہیں۔یہ رسم بہت ہی بُری رسم اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے خلاف ہے۔سادات میں سے وہ عورت جس پر کل سادات کو فخر ہے جس سے سیدوں کی اولا د چلی بیوہ تھی۔