حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 550 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 550

حقائق الفرقان ۵۵۰ سُوْرَةُ الْبَقَرَة والا ہوتا اس لئے دودھ پلانے کے متعلق بھی فیصلہ ہونا چاہیے تھا جو یہاں بیان کر دیا کہ اول تو مائیں ہی دودھ پلائیں۔لا تُكَلِّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا۔یہ بات خود یا درکھو کہ اسلام جو قاعدہ سکھائے گا وہ انسان کے قوالی روحانیہ و عقلیہ و مشاہدہ و تجربہ کے خلاف ہرگز نہ ہوگا۔جس چیز کی برداشت انسان کی قوت نہیں کر سکتی اس قوت کے متعلق کوئی حکم نہ ہوگا۔رمضان کا روزہ ہے تو بیمار و مسافر کے لئے حکم ہے کسی اور دن میں رکھ لیں۔ایسا ہی دودھ پلانے والی اور حاملہ اور بوڑھے آدمی کے لئے اجازت ہے کہ وہ کھانا دے دیا کرے کیونکہ اسے پھر رکھنے کی امید نہیں۔پھر نماز ہے اس کے لئے اجازت ہے وضو کر کے نہیں پڑھ سکتے تو تیم کر کے۔اُٹھ کے نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کے پڑھ لیں۔بیٹھ کر نہیں تو لیٹ کر۔ان سب باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے احکام شریعت میں انسان کی برداشت کو مد نظر رکھا ہے۔اسلام میں کوئی مسئلہ تثلیث کی مانند نہیں کہ ایک + ایک + ایک کو ایک ماننا پڑتا ہو۔نہ کفارہ کا مسئلہ ہے کہ بدی کا ارتکاب کرے زید اور سزا دی جائے بکر کو۔نہ اس میں یہ بات ماننی پڑتی ہے کہ انگور کا پانی اور روٹی واقعی مسیح کا لہو بن جاتا ہے نہ اس میں بت پرستی ہے جو بہت ہی بود اعقیدہ ہے۔کیونکہ جب گل چیزیں انسان کی خادم ہیں اور وہ مخدوم نہیں بن سکتیں تو معبود کس طرح بن سکتی ہیں؟ باوجود اس تعلیم کے میں نے اکثر بدمعاش شریر النفس لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ بدکاری کے بعد یہ غذر کرتے ہیں کہ خدا نے مجھے سے ایسا کروادیا در گوئے نیک نامی مارا گذر ندادند گر تو نے پسندی تغییر کن قضارات اگر یہ جواب صحیح ہو تو پھر تمام رسالتیں باطل ٹھہرتی ہیں اسی واسطے فرماتا ہے۔لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا - (البقرة: ۲۸۷) عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ۔اگر دونوں باہمی رضا مندی اور باہمی مشورہ سے دودھ چھڑا دیں لے نیک نامی کے گلی کوچہ میں ہم کو جانے کا موقع ہی نہیں دیا گیا اگر تجھے ہماری یہ ادا پسند نہیں تو ہماری قسمت کو تبدیل کر دے۔(ناشر)