حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 544 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 544

حقائق الفرقان ۵۴۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة گے۔نمبر ۲۔خود کشی ہو گی۔جیسے آسٹریا کے ولی عہد کو یہ مصیبت پیش آئی جب پسندیدہ بی بی بیا ہے کی اجازت قانون اور قوم نے نہ دی۔نمبر ۳۔یا بے غیرتی ہوگی جیسے بعض انڈین کے لئے پیش افتاد امر ہے کہ مردد یکھتا ہے اور بول نہیں سکتا۔نمبر ۴۔زنا کاری کی کثرت ہوگی جبکہ پہلی پسند نہیں اور دوسری کا مجاز نہیں اور قوای بہت مضبوط رکھتا ہے۔نمبر ۵۔یا آخر نیوگ کا فتوی ہو گا جیسا آریہ میں ہوا۔نمبر 4 قطع نسل بعض حالتوں میں ضرور پیش آئے گا۔نمبر ۷۔دختر کشی کی رسم اسی سے پیدا ہوئی ہے کہ نہ لڑکیاں رہیں اور نہ مصائب پیش آئیں۔نکتہ۔۱۔عورتوں مردوں میں ایک قدرتی فرق ہے عورت جبر سے بھی اپنا کام۔سکتی ہے بخلاف مرد کے۔اس واسطے علی العموم عدالتوں میں زنا بالجبر کے مقدمات میں عورتیں ہی مدعی ہیں۔نہ جوان مرد۔۲۔عورت کے بہت مرد ہوں تو اس کی صحت قطعا نہ رہے گی۔کنچنیوں کے حالات سے یہ تجربہ ہو سکتا ہے۔۳۔اس کے نطفہ بے تحقیق کی پرورش مشکل ہوگی کون ذمہ دار ہو گا۔۴۔ایک وقت میں اگر کئی طالب اس کے پیش ہو گئے تو مزاحمت اور جنگ ہوگا بشرطیکہ قوم با ہمت ہو۔۵۔قدرتی طور پر ایک عورت ایک برس میں ایک مرد کے نطفہ سے زیادہ چند مردوں کے نطفوں کے بچے پیٹ میں نہیں رکھ سکتی اور ایک مرد چند عورتوں میں اپنے بچہ وہ نطفہ رکھ سکتا ہے۔یہ قدرتی اجازت تعداد ازواج کی معلوم ہوتی ہے۔۶۔قرار حمل میں مشکلات ہوں گے۔وضع حمل کی ضرورتیں پیش آجائیں گی اور حمل کے بعد مرد کو دیا نند جماع کی اجازت نہیں دیتے۔اگر کثرت ازواج نہ ہو تو قوی مردوں کی جماعت میں ان کا فتوی کون سنے گا۔گو مجھے تو اب بھی یقین ہے کہ بیا ہے آریہ لوگ جن کی ایک بی بی ہے اور تندرست ہیں اس دیا نندی فتوی پر عمل درآمد کم کرتے ہوں گے۔ہاں البتہ حیوانات میں خود ئر حیوان اور ان کی مادہ حمل کے بعد ضرور متنفر ہو جاتے ہیں مگر انسانوں میں یہ نیچر۔۔قابل غور ہے۔( نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحہ ۶۲ تا ۶۴)