حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 532
حقائق الفرقان ۵۳۲ سُوْرَةُ الْبَقَرَة لوگ ہیں جن میں یہ اوصاف ہوں۔اول ایمان باللہ یعنی یہ یقین ہو کہ تمام خوبیوں سے موصوف اور تمام نقصوں سے منزہ ذات اللہ کی ہے۔پھر ملائکہ پر ایمان ہو یعنی ان کی تحریک پر عمل کیا جاوے۔پھر کتب اللہ پر ایمان ہو۔نبیوں پر ایمان ہو۔یومِ آخرت پر ایمان ہو۔صرف عذاب القبر حق ہی نہ کہے بلکہ رحمت القبر حق بھی۔تقدیر ( یعنی ہر چیز کے اندازے اللہ تعالیٰ نے بنارکھے ہیں) پر ایمان ہو۔پھر اس ایمان کے مطابق عمل درآمد بھی ہو۔عیسائیوں نے دھوکہ دیا ہے اور وہ یہ سوال کرتے ہیں کہ نجات فضل سے یا ایمان سے یا عمل سے؟ ہمارا جواب یہ ہے کہ نجات فضل سے ہے کیونکہ قرآن شریف میں ہے اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ (فاطر :۳۶) ہے مگر اس فضل کا جاذب ایمان ہے اور جیسا کسی کا ایمان مضبوط ہے اسی کے مطابق اس کے عمل ہوتے ہیں اسی واسطے یہاں امنوا کا ذکر فرما دیا۔کیونکہ اعمال ایمان کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں چنانچہ اس ایمان کا ایک نشان ظاہر کیا ہے کہ تمام مقدمات کی بنا تو زمین ہے مگر جب انسان ایمان میں کامل ہو جاتا ہے تو پھر وہ خدا کے لئے اس زمین کو بھی چھوڑ دیتا ہے یعنی ہجرت کیونکہ کسی چیز کو اللہ کے لئے چھوڑ دینا بہت بڑا عمل صالحہ ہے۔پھر فرمایا ایمان کا مقتضی اس سے بھی بڑھ کر ہے وہ کیا جهَدُوا فِي سَبِیلِ اللہ یعنی اس کا دن اس کی رات۔اس کا علم ، اس کا فہم ، اس کی محبت ، اس کی عداوت، اس کا سونا اور اس کا جاگنا، غرض کر دار، گفتار۔رفتار سارے کے سارے اس کوشش میں ہوں کہ میرا مولیٰ مجھ سے راضی ہو جاوے۔یادرکھو کہ خدا تعالیٰ قدوس ہے۔اس کا مقترب نہیں بن سکتا مگر وہی جو پاک ہو۔انسان بے شک کمزور ہے اس لئے وہ غلطیوں کو بخشنے والا ہے مگر اپنی طرف سے کوشش ضروری ہے۔مومن میں استقلال و ہمت بہت ضروری ہے۔یہ غلط خیال ہے کہ نبیوں نے اس وقت مقابلہ کیا جب ان کا جتھا ہو گیا۔حضرت نوح علیہ السلام کے جتھے کا کیا حال تھا ؟ مَا آمَنَ مَعَةَ إِلَّا قَلِيلُ (هود: ۴۱) جب آپ کو مقابلہ کی ضرورت پڑی تو ایک جملہ سے وہ کام لیا جو کل دنیا کی فوج نہیں کر سکتی یعنی لا تذر ا جس نے ہم کو اتارا سدا رہنے کے گھر میں اپنے فضل سے۔(ناشر) ہے اور اس پر ایمان تھوڑے ہی لوگ لائے تھے۔