حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 531
حقائق الفرقان ۵۳۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة پیدا کر لی جو امنِ عامہ کی بہت طرف داری کرتی تھی۔شریر لوگوں نے جب دیکھا کہ یہ تو صبر کرتے ہیں اس لئے انہوں نے شہر حرام میں بھی ان کو چھیڑنا شروع کیا۔اس پر صحابہ نے سوال کیا کہ ہمیں شہر حرام میں لڑائی کا کیا حکم ہے؟ فرمایا کہ یہ بڑے گناہ کی بات ہے اور اس لڑائی کے تین نقصان ہیں۔صَلَّ عَنْ سَبِيلِ الله (اللہ کی راہ میں آمد و رفت سے روکا جاتا ہے ) اور پھر اس کا کفر ہے اور عزت والی مسجد کا کفر ہے اور پھر خاص شہر والوں کا نکالنا تو اس سے بھی بڑا جرم ہے۔وَ مَنْ يَرْتَدِدُ۔دوسرے مقام پر فرمایا۔مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَةٌ - (المائدة: ۵۵) پھر فرما یا حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ۔وہ اسلام کے مقابلہ میں تیزی سے اُٹھیں گے مگر ان کی کوششیں اکارت جاویں گی۔وہ دنیا میں ہلاک ہوں گے۔میں اس آیت پر یقین کر کے کہتا ہوں کہ جولوگ امن عامہ کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ ضرور نا کام ونامراد ہلاک ہوں گے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۶ مؤرخه ۲۲ را پریل ۱۹۰۹ء صفحه ۳۸) اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَبِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللهِ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔ترجمہ۔البتہ جو لوگ ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں وطن چھوڑے یا گناہ سے باز آ گئے اور جہاد کئے یا نیک کوشش ( ہر قسم کی کئے ) تو یہی لوگ فضل الہی کے امید وار ہیں اور اللہ کمزوریوں کو بڑا ڈھانپنے والا سچی کوشش کا بدلہ دینے والا ہے۔تفسیر۔اس (آیت) میں ایک غلطی کی اصلاح ہے جو نہ صرف چھوٹوں میں پائی جاتی ہے بلکہ بڑوں میں بھی اور وہ یہ ہے کہ مستحق کرامت گنہ گاراں انند کا مصرعہ زبان پر رہتا ہے جس نے بہت لوگوں کو بیا کی کا سبق دیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أُولبِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ رحمت الہی کے مستحق تو وہ ا جو تم میں سے پھر جائے گا اپنے دین سے تو اللہ تعالیٰ لے آئے گا اور ایک ایسی قوم کو کہ وہ اللہ کو دوست رکھتی ہوگی اور اللہ ان کو دوست رکھتا ہوگا۔( ناشر ) ترجمہ۔( ہم ) گنہگا رہی مستحق کرامت ہیں۔