حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 530
حقائق الفرقان ۵۳۰ سُوْرَةُ الْبَقَرَة لَا يَسْخَرُ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ (الحجرات:۱۲) ۳۔اگر کوئی تمہیں تکلیف دے تو تم صبر سے کام لو۔چنانچہ فرمایا إِنَّ اللهَ مَعَ الصُّبِرِينَ (البقرۃ: ۱۵۴) دنیا میں جتنی جنگیں ہوتی ہیں اگر ایک طرف صابر ہو تو نفع اٹھائے مگر افسوس کہ سطحی خیالات کے لوگ صبر کی حقیقت کو نہیں سمجھتے حالانکہ دیکھتے ہیں اگر شہنشاہ کسی کی معیت کا دعوای کرے تو وہ شخص پھولا نہیں سماتا۔پس جس کے ساتھ اللہ ا پنی معیت جتائے اُسے کتنا فخر حاصل کرنا چاہیے اور فرمایا ہے اِنَّمَا يُوَفَّى الصُّبِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ (الزمر: ۱۱) صابرین کے لئے نیک ثمرات کا وعدہ ہے اور وَ لَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الأمور (الشورى: (۴۴) میں بتلایا ہے کہ صبر کرنا بھاری کام ہے۔۴۔چوتھا اصل یہ فرمایا که اِنْ طَائِفَتَنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَاَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا۔(الحجرات: ١٠) غرض بدظنی سے روکا تمسخر سے روکا۔صبر کے فوائد بتلائے اور یہ کہا کہ اگر آدمیوں میں نقار ہو تو تم صلح کرا دو۔ان چار اصولوں کو بتا کر دنیا میں امن عامہ کی بنیا دڈالی۔عرب کی جنگجو قوم میں صبر کا مادہ ضرور تھا چنانچہ اسی لئے وہ شہر حرام میں قتال نہ کرتے تھے۔حتی کہ اپنے بیٹے یا بھائی یا باپ کے قاتل کو بھی نہ مارتے تھے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مادہ کو بڑھانے کی کوشش فرمائی اور ان میں وحدت کی روح پیدا کرنے کی تدبیریں کیں۔ازاں جملہ ایک یہ تھی کہ اپنی پھوپھی کی لڑکی کا نکاح اپنے غلام سے کر دیا تا کہ غلاموں کو حقیر نہ سمجھا جائے۔آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس ارادہ میں کامیاب ہوئے اور آپ نے ایک ایسی جماعت ل ٹھٹھا نہ کیا کرے ایک قوم دوسری قوم سے ممکن ہے کہ جن پر ہنستے ہیں وہ بہتر ہوں ہنسنے والوں سے۔۲؎ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔سے اس کے سوا نہیں کہ صبر کرنے والوں کو پورا پورا دیا جائے گا ان کا اجر بے حساب۔ہے اور البتہ جس نے صبر کیا اور عیب پوشی کی تو بے شک یہ بہت ہی بڑے ہمت کے کام ہیں۔۵۔اگر دو جماعت مسلمانوں کی باہم لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو۔( ناشر )