حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 522 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 522

حقائق الفرقان ۵۲۲ سُوْرَةُ الْبَقَرَة بات میں وہ جھگڑا کریں۔اور کتاب میں جھگڑا نہ ڈالا مگر انہیں لوگوں نے جن کو کتاب ملی تھی (اور وہ بھی) اس کے بعد کہ اُن کے پاس کس قدر کھلے کھلے نشان آچکے آپس کی ضد سے تو اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کو اپنی طرف سے ہدایت دے دی اُس سچی بات کی جس میں ( کتاب والے ) جھگڑتے تھے اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ بتادیتا ہے۔تفسیر۔لوگوں کا دین ایک تھا۔پھر بھیجے اللہ نے نبی خوشی اور ڈر سنانے والے اور اتاری ان کے ساتھ کتاب سچی کہ فیصل کرے لوگوں میں جس بات میں جھگڑا کریں۔فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحہ ۲۶۴ حاشیه ) كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً۔نیک و بد تو دنیا میں ہوتے ہیں مگر ایک وقت لوگوں پر ایسا آتا ہے کہ ان میں سے غیرت ایمانی اُٹھ جاتی ہے اور وہ مذہبی بحثوں کو فساد جاننے لگتے ہیں۔ایک منصف فخر کے طور پر کہتا ہے کہ میرا ایک دوست بڑا پیارا تھا تیس برس سے ملاقات چلی آتی ہے اور میں نے کبھی اس کے سامنے خدا کا نام نہیں لیا۔اُمَّةً وَاحِدَةٌ کے میرے نزدیک یہی معنے ہیں کہ بے غیرت ہو کر ایک رنگ میں رنگین ہو جانا۔ایسے وقت میں اللہ کے مامور آتے ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے۔فَبَعَثَ اللهُ المین۔نبیوں کو مبعوث کرتا ہے۔بَغْيًا بَيْنَهُم - یعنی محض ضد کی وجہ سے نہیں مانتے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے کچھ دن پہلے مسیلمہ کذاب نے پیغمبری کا دعوی کیا۔ایک صحابی کا آشنا مسیلمہ کا مرید تھا۔اس سے پوچھا گیا تم نے مسیلمہ کو کیوں مان لیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کیا نقص دیکھا تو وہ کہنے لگا أَكْذَبُ بَنِي يَمَامَةَ أَحَبُّ إِلَى مِنْ أَصْدَقِ قُرَيْش - قریشی خواہ کیسار است باز ہو آ خرقریشی ہے اس سے مجھے اپنی قوم کا اکذب اچھا۔پس یہ وجہ ہوتی ہے اختلاف کی۔میں کل بتلا چکا ہوں کہ جس حصہ میں انسان کا دخل نہیں اس میں شریعت نازل نہیں ہوتی اور جس میں دخل اور اختیار ہے اس میں شریعت ہے۔قانونِ سرکاری اور شریعت میں یہ فرق ہے کہ قانون گورنمنٹ اس وقت گرفتار کر سکتا ہے