حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 514
حقائق الفرقان ۵۱۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاء مَاء لِيُطَهِّرَكُم بِه (الانفال: ۱۲) اور ملائکہ کا بھی ذکر ہے اِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُسِدُّكُمْ بِالْفِ مِنَ الْمَلَكَةِ مُردِ فِيْنَ۔(الانفال:١٠) (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۶ مورخه ۱/۲۲ پریل ۱۹۰۹، صفحه ۳۵) خداوند کا بدلیوں میں آنا۔یہ آسمانی کتب کا محاورہ ہے اور بعض اوقات ایسے محاورے نہ سمجھنے سے بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں جن کا کچھ حل نہیں ط سوجھتا پاره ۲ رکوع ۹/۲۵ میں ایک آیت ہے۔هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي خُللِ مِنَ الْغَمَامِ وَالْمَلبِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَ إِلَى اللهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ۔یعنی کیا اب یہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر بادلوں کے سائبانوں میں ظاہر ہو اور فرشتے اور فیصلہ ہو جائے اور تمام باتیں اللہ ہی کی طرف رجوع کرتی ہیں۔فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ اور نزولِ ملائکہ کے معنے سمجھنے کے لئے پارہ 9 سورۃ انفال رکوع ۱ کو بغور سے پڑھنا چاہیے جہاں اس پیشگوئی کی تفصیل کر دی ہے وہ یوں کہ فرماتا ہے۔اِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ إِنِّي مُمِنكُمْ بِالْفِ مِنَ الْمَلَكَةِ مُردِفِينَ وَمَا جَعَلَهُ اللهُ إِلَّا بُشْرَى وَلِتَطْمَينَ بِهِ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا النَّصْرُ إِلا مِنْ عِنْدِ اللهِ إِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ۔جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے منظور فرمایا کہ میں تمہیں ہزار فرشتے سے جو لگا تار آنے والے ہیں مدد دینے والا ہوں۔یہ اللہ نے فقط خوشخبری دی اور تا کہ اس سے تمہارے دل تسلی پائیں اور فتح تو صرف اللہ ہی کے ہاتھ ہے۔وہ زبر دست حکمت والا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ جنگ میں ملائکہ اُترے اور انہوں نے حسب حكم الى إذْ يُوحَى رَبُّكَ إِلَى الْمَلَكَةِ إِنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا سَأَلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرعب۔( میں تمہارے ساتھ ہوں۔مومنوں کو ثابت قدم رکھو اور ان کے قلب کو مضبوط ط لے جب تم کو ڈھانپ لیا اونگھ نے اللہ کی طرف سے تسکین کے لئے اور اتارتا تھا تم پر بادل سے پانی تا کہ پاک کرے تم کو اس کے ذریعہ سے۔۲ جب تم پانی مانگنے لگے تمہارے رب سے تو اس نے قبول فرمائی تمہاری دعا، میں تم کو مدد دوں گا ہزار فرشتوں سے ایک کے پیچھے ایک آنے والوں سے۔(ناشر)