حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 511
حقائق الفرقان ۵۱۱ سُورَةُ الْبَقَرَة فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اپنے اللہ کا ذکر کرو اپنے باپوں کی مانند۔ اِس میں یہ سمجھا یا کہ ہر ایک شخص کا باپ ایک ہی ہوتا ہے۔ اللہ بھی ایک ہی مانو۔ ( تشحیذ الاذہان جلدے نمبرے۔ جولائی ۱۹۱۲ ء صفحہ ۳۳۳) ۲۰۵ - وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَ يُشْهِدُ اللهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ - ترجمہ ۔ اور بعض آدمی ایسا ہے کہ دنیا کی زندگی میں اُس کی بات تجھ کو پسند آتی ہے اور وہ اپنے دل کی بات پر اللہ کوگواہ قرار دیتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔ تفسير - وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ - بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو باتیں بنانا خوب آتی ہیں۔ باتیں بنانے کے لئے اس فن کی کتابوں کو پڑھتے ہیں مگر مومن کا یہ کام نہیں ہوتا۔ وَ مَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَفِينَ ( ص : ۸۷) امام مالک سے کسی نے چالیس سوال کئے ۔ ایک دو کا جواب دے کر کہا وَ مَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ - وَ يُشْهِدُ اللهَ ۔ یعنی بات بات پر قسم کھانا کہ واللہ، بالله، بخدا یوں بات ہے۔ الدُّ الْخِصَامِ ۔ جھگڑالو حق کا طالب نہیں ہوتا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۶ مورخه ۲۲ را پریل ۱۹۰۹ ء صفحه ۳۵) ۲۰۶ - وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَ يُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَ اللهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ - ترجمہ۔ وہ جب لوٹ کر گیا یا حاکم یا والی بنا تو دوڑتا پھرا ملک میں تاکہ اس میں شرارت پھیلا دے اور کھیتی اور نسل کو تباہ کرے ( یا عورت اور بچوں کو) اور اللہ تعالیٰ شرارت اور فساد کو پسند نہیں کرتا۔ تفسیر ۔ توٹی ۔ حاکم بن جائے ۔ لے اور نہ میں تکلیف کرنے والوں میں سے ہوں ( یعنی جھوٹی بات بنا کر پھنسانے والا نہیں ہوں ) ۔ (ناشر)