حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 42 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 42

حقائق الفرقان ۴۲ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اب ہم تینوں الزامی اور تینوں نقلی جوابوں سے فارغ ہو کر عقلی جواب دیتے ہیں۔ناظرین! کیا معجزہ قرآنی نہیں کہ مقطعات قرآن کریم پر مخالفانِ اسلام کا اعتراض ہو اور تمام دنیا کے مخالفانِ اسلام اسلامیوں سے بڑھ چڑھ کر ان حروف مقطعہ کے استعمال میں مبتلا دکھائے جائیں؟ اور ہم نے تو صحابہ کرام کے اقوال سے ان کے معانی کو ثابت کیا ہے مگر معترض لوگ آ۔اُ۔م کے معنی ملہمان وید کے صحابہ سے بتا ئیں تو سہی! دو ارب برس کی تصنیف کتاب کونسی ہے جس میں یہ معانی لکھے ہوئے ہیں جو سندھیا ودھی بلکہ ستیارتھ کے پہلے ہی صفحہ میں لکھے ہیں اور پھر جب اسلام کی کتب میں یہ معانی موجود ہیں تو ان پر اعتراض کیوں ہے؟ اور اس طرح اختصار سے کلام کرنا تو عربی علوم میں عام مروج ہے بلکہ اس کے علاوہ کئی طریق سے اختصار کیا جاتا ہے مثلاً يَسْمَلُ حَمْدَلٌ حَوْتَل رَجَعَ هَلَّلَ اور مثلاً خود قرآن کریم کے آیات کے نشان پر ط مطلق اور ج جائز۔ص صلی کا اختصار ہے اور قرآنوں کے اوپر ع رکوع کا چنا نچہ اع اس طرح کے نشانوں میں اُوپر کا نشان پارہ کا یا سورۃ کا اور اوپر والا اگر پارہ کا نشان ہے تو نیچے والا سورۃ کا اور اگر اوپر والا سورۃ کا ہے تو نیچے والا پارہ کا۔درمیانی ہندسہ آیات رکوع کا نشان ہے۔علیم قرآت میں فمی بشوق کے مقطعات سات منازل قرآت کا نشان ہے۔علم حدیث میں نا۔انا۔ح۔ت - ن - د۔ق۔م - خ - حدثنا - اخبرنا حول السند۔ترمذی۔نسائی۔ابو داؤد - متفق علیہ مسلم و بخاری کے نشان ہو ا کرتے ہیں۔علم فقہ میں صدہا علامات ہوتی ہیں۔ان کا ایک فقرہ ہے مسئلہ البئر جحط۔کنوئیں کے پانی میں ایک خاص امر میں اختلاف پر لکھا ہے کہ اس وقت پانی نجس ہوا ہے یا برحال رہتا ہے یا طاہر و 1 پاک رہتا ہے۔علم صرف میں س سمع يسمع کا نشان، ک کرم ، ن نصر ض ضرب کا ،ف فتح یفتح کا نجو میں طاعطف کا نشان ، حد تعلق کا ، مف مفعول کا وغیرہ۔لغت میں بلدۃ کا ، ج جمع کا ، کاف کسرہ عین ماضی ، فتح عین مضارع کا نشان ہے۔طب میں مكد من كل واحد كا نشان ہے جس کے معنی ہیں ہر ایک سے۔