حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 41 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 41

حقائق الفرقان ۴۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة دوسرے صحابہ نے اور نہ تابعین نے۔نہ پچھلے علماء نے اور اگر کسی نے ان کے علاوہ کہا ہے تو اس کا کہنا صحیح ہے جیسا ہم نے دکھایا ہے۔ابن جریر نے ان گل معانی بلکہ ان کے سوا اور معانی لے کر سب کو جمع کرنے کو بہت پسند کیا ہے اور اپنے طور پر ان کو جمع کر کے بھی دکھایا ہے۔ابن جریر کی یہ عبارت بڑی قابل قدر ہے جو آخر مقطعات پر لکھی ہے اِنَّهُ عَزَ ذِكْرُهُ أَرَادَ بِلَفْظِهِ الثَّلَالَةَ بِكُلِّ حَرْفٍ مِنْهُ عَلَى مَعَانٍ كَثِيرَةٍ لَا عَلَى مَعْنَى وَاحِدٍ كَمَا قَالَ الرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ وَإِنْ كَانَ الرَّبِيعُ قَدِ اقْتَصَرَ بِهِ عَلَى مَعَانٍ ثَلقَةٍ دُونَ مَا زَادَ عَلَيْهَا وَالصَّوَاب فِي ذلِكَ عِنْدِى أَنَّ كُلَّ حَرْفٍ مِنْهُ يَحْوِى مَا قَالَهُ الرَّبِيعُ وَمَا قَالَهُ سَائِرُ الْمُفَشِيرِينَ وَاسْتَغْلى شَيْئًا ربیع کے تین معنی یہ ہیں۔اول اللہ میں الف سے اللہ۔لام سے لطیف اور میم سے مجید۔دوم۔الف سے اللہ تعالیٰ کے آلاء و انعامات اور لام سے اس کا لطف اور میم سے اس کا مجد پھر الف سے ایک۔لام سے تھیں۔میم سے چالیس عدد۔ابن جریر کا منشاء یہ ہے کہ اگر کوئی اور معانی بھی لے لے ( جیسے کہا گیا ہے کہ الف سے قصہ آدم اور لام سے حالات بنی اسرائیل اور میم سے قصہ ابراہیم مراد ہے ) جب بھی درست ہے۔زمخشری اور بیضاوی نے علوم قراءت وصرف کے بڑے بڑے ابواب کا پتہ ان سے لگایا ہے اور شاہ ولی اللہ نے غیب غیر متعین کو متعین اس عالم میں مانا ہے اور مبرد اور دیگر متقین ، فراء وقطرب و شیخ الاسلام الامام العلامہ ابوالعباس ابن تیمیہ اور الشیخ الحافظ المجتهد ابوالحجاج المزی اور زمخشری کا قول ہے کہ یہ منکروں کو ملزم کرنے کے لئے بھی بیان کئے گئے ہیں مثلاً مخالفوں کو تحدّی سے کہا گیا کہ الف حرف ہے جو گلے سے نکلتا ہے اور لام درمیانی مخارج سے اور میم آخری مخرج ہونٹ سے ہے۔پس جبکہ ان معمولی لفظوں سے قرآن کریم بنا ہو ا ہے تو تم اس کی مثل کیوں نہیں بنا سکتے ؟ ترجمہ از مرتب۔اللہ تعالیٰ نے مقطعات میں جو حروف بیان فرمائے ہیں ان میں سے ہر حرف بہت سے معانی رکھتا ہے ایک ہی معنی نہیں رکھتا۔جیسے کہ ربیع بن انس بیان کرتے ہیں۔اگر چہ ربیع نے تین سے زائد ممکنہ معانی میں سے صرف تین ہی بیان کئے ہیں اور اس سلسلہ میں میرے نزدیک درست رائے یہ ہے کہ جیسے کہ ربیع اور تمام مفسرین نے بیان کیا ہے۔ان میں سے ہر حرف متعدد معانی رکھتا ہے۔البتہ الربیع نے بعض استثناء بھی بیان کئے ہیں۔