حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 509 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 509

حقائق الفرقان ۵۰۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ص ۱۹۹۔لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفْتِ فَاذْكُرُوا اللهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَ اذْكُرُوهُ كَمَا هَدَيكُمْ ۚ وَ إِنْ كنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ - ترجمہ۔تم کو منع نہیں کچھ مال کی تجارت کرنا ہے تو پھر جب کوچ کروعرفات سے تو مشعر الحرام ( مولفہ ) کے پاس اللہ کی یاد کرو۔اور اللہ کو یاد کر و اُس طرح جس طرح اُس نے تم کو بتایا ہے ( رسول کے ذریعہ ) اور اس سے پہلے تو تم البتہ راہ بھولے ہوؤں میں سے تھے۔تفسیر آن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ - چونکہ اس راہ میں کچھ آسودگی بھی چاہیے پس اس کے لئے اجازت ہے کہ تم کچھ تجارت بھی کرو۔بعض علماء ظاہر مال کو برا سمجھتے ہیں مگر خدا تعالیٰ اسے فضل فرماتا ہے۔الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ - مزدلفہ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۶ مؤرخه ۲۲ را پریل ۱۹۰۹ ء صفحه ۳۵) ۲۰۰۔ثُمَّ اَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ عفور رحیم - ترجمہ۔پھر تم بھی چلو جہاں سے دوسرے لوگ چلیں اور اللہ ہی سے گناہ بخشواؤ بے شک اللہ بڑا ڈھانپنے والا سچی کوشش کا بدلہ دینے والا ہے۔ثمَّ اَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ - دو غلط رسمیں تھیں ان کی اصلاح فرمائی۔ایک تو یہ کہ مکہ والے عرفات کے کنارے رہتے آگے نہیں بڑھتے تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سب وہاں اکٹھے جائیں۔دوسری رسم یہ تھی کہ مزدلفہ سے سویرے کوچ نہ کرتے تھے بلکہ شبیر پہاڑی پر جب دھوپ آ جاتی تو اس وقت چلتے۔وَاسْتَغْفِرُوا الله۔ہر عبادت کے بعد استغفار کا حکم ہے۔دیکھو بڑی عبادت سجدہ ہے اور سجدہ کے بعد پڑھا جاتا ہے اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمنِی وَعَافِنِی ایسا ہی جب نماز سے فارغ ہو جائیں تو لے اے اللہ مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما اور مجھے عافیت عطا فرما۔(ناشر)