حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 506
سُوْرَةُ الْبَقَرَة حقائق الفرقان پیدا کیا ( یہاں میرا عزیز غور کرے ( الا نہ خدا نے اس وقت ان اسرار کو بیان فرمایا نہ اس کے ان مقربین بارگاہ نے جو اس وقت تھے ان کی تشریح کی پھر کیا اس وقت کے بیان نہ کرنے سے لازم آتا ہے کہ یہ اسرار موجود ہی نہ تھے اور یہ منافع جو آج ظاہر ہوئے ان عناصر میں اسی زمانہ میں موجود ہو گئے ہیں۔عزیز من ! قانونِ شریعت ہاں اسلام بعینہ قانونِ الہی سمجھو۔عزیز من! قانونِ قدرت اور طبعیات میں صرف وہی اسرار اور منافع نہیں جو حکمائے یونان اور یورپ اور بقول آریہ سماج دانایان هند ( تو به ) آریہ دیش نے بیان کئے بلکہ اور بے انت اسرار بھی ہیں۔اگر طبعی قانون کے اسرار بے انتہا ہیں اور صرف اس قدر نہیں جو اب تک حکماء نے بیان کئے ہیں تو احکام اسلام کے اسرار بھی ایسے ہی سمجھو۔معلوم نہیں زمانے کی ترقی پر کیا کیا اسرار قانونِ قدرت اور قانونِ شریعت میں ظاہر ہوں گے سلف اُمت اگر اسرار بیان کرتے تو کس قدر اور کیا بیان کرتے۔۔۔دوسرے اعتراض کا جواب یہ ہے۔صرف اجتماع قومی ہی مقصود بالذات نہیں ہوتا بلکہ اسلام کا منشاء ہے کہ ہر ایک فعل میں، ہر ایک قول میں ہم کو ہمارا خالق اور رازق مربی یا در ہے۔کوئی فعل اور قول بد وں شمول نام باری و رضائے ایزدی نہ ہو۔ہر وقت فانی اشیاء سے بقا کی طرف۔جسم سے رُوح کی طرف تو عبد ر ہے۔دیکھو پاخانے کو جاتے ہوئے ایک جسمانی نجاست پھیلنے کی جگہ جاتے ہیں۔اسلام سکھاتا ہے پائخانے میں جاتے وقت کہو اللهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُبِكَ مِنَ الْخَبْثِ وَالْخَبَائِثِ اور جب پائخانے سے نکلے تو اس واسطے کہ ایک جسمانی دکھ سے نجات پائی اور جسم سے جسمانی نجاست دُور ہو گئی۔روحانی نجاستوں کے دُور ہونے کی دعا مانگے اور کہے غُفْرَانَكَ یعنی ہر ایک برائی پر تیری مغفرت مانگتا ہوں۔دوسری بات بجواب اعتراض دوم یہ ہے کہ اگر یہ روحانی محرکات انہی اذکار اور الہی عبادتیں ان اعمال کے ساتھ نہ ہوتیں تو یہ اعمال متروک ہو جاتے۔باہمی اختلافات سے یہ انجمنیں مثل اور دنیوی انجمنوں کے فنا ہو جاتیں یا یہ اعمال صرف دنیوی منافع پر محدود رہ جاتے۔فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحه ۳۷ تا ۴۰) لے اے اللہ میں گندگی ونجاست اور تکلیف دہ چیزوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔(ناشر)