حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 496
حقائق الفرقان ۴۹۶ سُورَةُ الْبَقَرَة موزے سے پانی نکال کر پلا یا تو خدا نے اسے نجات کی راہ بتائی۔بہر حال انفاق فی سبیل اللہ بہت سے ثمرات رکھتا ہے اور ہر زمانے میں انفاق کا ایک رنگ ہوتا ہے۔یہ زمانہ فوجی تیاریوں پر خرچ کرنے کا نہیں بلکہ قلمی جہاد کا ہے۔پس اسی میں مدد کرنا ہر مومن پر فرض ہے۔اگر تم یہ خرچ نہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے تئیں ہلاک کر لو گے کیونکہ جب دشمن کا مقابلہ نہ کیا گیا تو اس کا نتیجہ سوا اپنی بربادی اور گمنامی کے اور کچھ نہیں۔اس لئے فرماتا ہے۔ولا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ - تم اپنے ہاتھوں سے اپنے تئیں ہلاکت میں نہ ڈالو۔وَاحْسِنُوا ۚ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ - احسان کی عادت ڈالو تا تم خدا کے محبوب بن جاؤ۔رُوح کے خواص میں سے ایک یہ بات ہے کہ ہر شخص محبوبیت کے مقام کا خواہاں ہے۔شاعر شعر کہتا ہے۔لیکچرار لیکچر تیار کرتا ہے خوبصورت بن ٹھن کے نکلتا ہے۔دولتمند مال خرچ کرتا ہے اس لئے کہ وہ محبوب بن جائے۔اس محبوبیت کے مقام کے حصول کا ایک ذریعہ اللہ بتا تا ہے وہ یہ کہ تم محسن بن جاؤ۔پھر تم محبوب بنو گے اور محبوب بھی کس کے اللہ کے۔کوئی شخص اپنے محبوب کو ذلیل نہیں کرتا۔پس وہ جس کا خدا محب ہو وہ کیونکر ذلیل ہوسکتا ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۵،۲۴ مورخه ۸ و ۱۵ را پریل ۱۹۰۹ء صفحه ۳۴) أَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ الله (البقرة: ۱۹۶) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔اگر تم اس پر عمل نہیں کرتے تو ہلاک ہو جاؤ گے۔کئی قسم کی ضرورتیں درپیش ہیں۔حضرت امام کی تعلیم کی اشاعت اور تبلیغ ، مہمانوں کی خبر گیری، مکانات کی توسیع کی ضرورت، مدرسہ کی ضروریات، غرباء ومساکین رہتے ہیں ان کا انتظام، مدرسہ میں غریب طالب علم ہیں ان کے خرچ کا کوئی خاص طور پر متکفل نہیں اور مستقل انتظام نہیں۔اس کے علاوہ اور بہت سی ضروریات ہیں۔اسی مسجد کا خادم ایک بڑھا ہے اور حضرت اقدس کا ایک سچا خادم حافظ معین الدین ہے۔ایسے لوگوں کی خبر گیری کی ضرورت ہے۔غرض یہاں کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر ہر شخص کو جو کچھ اس سے ہو سکے اپنے مال سے، کپڑے سے الگ کرنا چاہئے۔یہ مت خیال کرو کہ بہت ہی ہو، کچھ ہو خواہ ایک پائی ہی کیوں نہ ہو۔ہر قسم کا کپڑا یہاں کام آ سکتا ہے۔پس یہاں کی