حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 495 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 495

حقائق الفرقان ۴۹۵ سُورَةُ الْبَقَرَة مسلمان ہو کر بسر کریں۔ایسا نہیں کہ ڈر کے مارے اندر سے مسلمان اور باہر سے کافر۔فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحہ ۹۷) اوران سے ( کافران مکہ اور ان کے خصال وصفات کے آدمی ) لڑو جب تک روک ٹوک اُٹھ جاوے اور دین اللہ کے لئے ہو یعنی فرائض دین بلا روک ٹوک ادا کئے جاسکیں اور مخل خلل اندازی چھوڑ دیں۔( تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۴۳ حاشیہ) ١٩٦ - وَاَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَ أَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ - ترجمہ۔اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔تفسیر۔وَ انْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ۔لڑائی کے وقت مالوں کی سخت ضرورت ہوتی ہے اس لئے اسکی ترغیب دی دیکھو! ابوبکر و عمر قوم کے لحاظ سے ابو جہل وغیرہ سے بڑے نہ تھے مگر انہوں نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا تو وہ بڑے بن گئے۔میں ہمیشہ اس امر کو ذوق سے دیکھا کرتا ہوں کہ مہاجرین نے خدا کے لئے وطن چھوڑا تو ان کو بدلے میں ملک کی سلطنت ملی۔انصار نے یہ کام نہ کیا اس لئے ان کو یہ اجر بھی نہ ملا۔خدا کی راہ میں خرچ کرنا کبھی ضائع نہیں جاتا۔ایک صحابی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں سو اونٹ دیا تھا کیا اس کا کچھ ثواب ملے گا فرما يا أَسْلَمْتَ عَلى مَا سَلَفَ مِنْ خَيْرٍ ( بخاری کتاب الادب باب مَنْ وَصَلَ رَحِمَهُ فِي الشرك ثُمَّ أَسْلَمَ) اُسی کی برکت سے تو تو مسلمان ہوا۔ایسا ہی ایک اور قصہ ہے کہ کوئی خشک فتوای گر تھے ان کے پڑوس میں ایک یہودی رہتا جو ہر صبح چڑیوں کو چوگا ڈالتا تھا۔اس فتوی گر نے کہا کہ کیوں ناحق اپنا مال ضائع کرتا ہے۔تیرے اس جود وسخا کا بوجہ کفر کوئی فائدہ نہیں۔کچھ مدت ہوئی تو اسے حج کرتے پایا۔اُس وقت سمجھا کہ یہ اسی خیرات کا اثر تھا۔ایسا ہی ایک اور بدکار نے ایک پیاسے کتے کو اپنے ے جو بھلائی نیکی ( اسلام لانے سے پہلے تجھ سے وقوع میں آئی اسی کے طفیل تو مسلمان ہوا۔( ناشر )