حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 40
حقائق الفرقان ۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة صحابہ و تابعین کی روایات کا بسط کیا ہے۔آخر کہا ہے کہ ان مقطعات کو صحابہ کرام نے اسماء الہیہ کا بجا و مانا ہے اور بعض نے ان پر اساء الہیہ کا اطلاق کیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ان سے قسم کی گئی ہے ان کو اسماء السور، اسماء القرآن، مفتاح القرآن بھی کہتے ہیں۔آخر مجاہد کی روایت لی ہے کہ یہ با معنی الفاظ ہیں اور الربیع بن انس تابعی کا قول نقل کیا ہے کہ ان کے بہت معنی لینے چاہئیں اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ اسماء وافعال کے اجزا ہیں۔بالآخر الربیع بن انس کی روایت پر کہا ہے کہ یہ سب معانی صحیح ہیں اور ان میں تطبیق دی ہے۔میں کہتا ہوں بات کیسی آسان ہے کیونکہ ان حروف کا اسماء الہیہ کی جزو ہونا تو قول حضرت علی المرتضی علیہ السلام کا ہے اور ابن مسعود اور بہت صحابہ اور ابن عباس کا ، رضوان اللہ علیہم اجمعین۔پس یہ معنے اصل ہوئے اور جن لوگوں نے کہا کہ یہ اسماء الہیہ ہیں انہوں نے اصل بات بیان کر دی کیونکہ آخر ان اسماء سے اسماء الہیہ ہی لئے گئے اور چونکہ اسماء الہیہ کے ساتھ قسم بھی ہوتی ہے اس لئے یہ تیسرا قول بھی پہلا قول ہی ہو ا۔پھر چونکہ سورتوں کے نام ان کے ابتدائی کلمات سے بھی لئے جاتے ہیں اسی واسطے فاتحۃ الکتاب کو اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ اور سورۃ اخلاص کو قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ کہتے ہیں اور اسی لئے یہ حروف مفاتح السور اور اسماء السؤ ر ہوئے اور چونکہ ہر ایک سورۃ کو قرآن کہتے ہیں جیسے آیا ہے انا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا (الجن : ۲) اور فرمایا ہے وَ إِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَه (الاعراف: ۲۰۵) اس لئے بعض نے ان کو اسماء القرآن بھی کہا ہے۔پس مجاہد کا قول کہ یہ حروف موضوع ہیں معانی کے لئے۔اور ربیع بن انس کا یہ قول کہ ان کے بہت معانی ہیں درست و صحیح ہے اور یہ تمام اقوال پہلے قول کے مؤید ہیں اور انہی معنوں کے قریب بلکہ عین ہے وہ قول جو ابن جریر میں ہے کہ اللہ کے معنی انا اللہ اعلم ہیں۔پس جو معانی صحابہ کرام نے کئے ہیں وہ بالکل صحیح ہوئے۔اول تو اس لئے کسی نے ان صحابہ کرام پر اعتراض نہیں کیا۔نہ لے ہم نے عجیب ہی قرآن سنا ہے۔ہے اور جب قرآن پڑھا جاوے تو اسے کان لگا کر سنو۔سہ میں اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔( ناشر )