حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 486 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 486

حقائق الفرقان ۴۸۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اس سوال کے جواب میں کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پیغمبر ہوتے تو اُس وقت کے سوالوں کے جواب میں لاچار ہو کر یہ نہ کہتے کہ خدا کو معلوم ہے یعنی مجھے معلوم نہیں ؟ فرمایا۔خاکسار عرض پرداز ہے۔مخالف اور موافق لوگوں نے حضور علیہ السلام سے جس قدر سوال کئے اُن کا جواب اگر ممکن تھا تو حضور علیہ السلام نے ضرور دیا ہے۔قرآن میں حسب ذیل سوالات کا تذکرہ موجود ہے۔مُنصف غور کریں۔اوّل رمضان کے مہینہ اور روزوں کے چاند کا تذکرہ جب قرآن کریم نے کیا تو لوگوں نے رمضان کے اور چاندوں کا حال دریافت کیا جیسے قرآن کہتا ہے اور ماہ رمضان کے تذکرہ کے بعد اس سوال کا تذکرہ کرتا ہے۔يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ (البقرة : ۱۹۰) پوچھتے ہیں تجھ سے رمضان کے سوا اور چاندوں کا حال یعنی ان میں کیا کرنا ہے اس سوال کا جواب سوال کے بعد ہی بیان کیا گیا اور جواب دیا۔قُلْ هِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَیچ تو اِس سوال کے جواب میں کہہ دے کہ یہ چاند لوگوں کے فائدہ اُٹھانے کے وقت ہیں اور بعضے چاندوں میں حج کے اعمال ادا کئے جاتے ہیں۔دوسرا سوال یہ ہے۔يَسْتَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ (البقرہ : ۲۱۶) سوال کرتے ہیں کیا خرچ کریں۔اس کا جواب قرآن نے دیا ہے۔مَا انْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَ الْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَى وَالْمَسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ (البقرة: ٢١٢) جو کچھ خرچ کرو مال سے تو چاہیے کہ وہ تمہارا دیا اور خرچ کیا تمہارے والدین اور تمہارے رشتہ داروں اور یتیموں اور غریبوں اور مسافروں کے لئے ہو۔تیسرا سوال يستلونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ (البقرة : ۲۱۸) پوچھتے ہیں تجھ سے حرمت والے مہینہ کے متعلق کہ اس میں جنگ کا کیا حکم ہے؟ تو جواب دیا۔قُلْ قِتَالُ فِيْهِ كَبِيرُ وَصَةٌ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ (البقرة: ۲۱۸)