حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 485 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 485

حقائق الفرقان ۴۸۵ سُورَةُ الْبَقَرَة رمضان شریف کے ذریعہ سے مسلمانوں کو تقوی میں ایک ریاضت کرائی جاتی ہے کہ جب مباح چیزیں انسان خدا کی خاطر چھوڑ دیتا ہے تو پھر حرام کو کیوں ہاتھ لگانے لگا۔پھر فرمایا کہ ایک وقت تو خدا تعالیٰ کی صفت رحم اور درگذر کی کام کرتی ہے مگر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ جب دُنیا کے گناہ حد سے بڑھ جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے پھر بھی ایسے وقت میں ایک سمجھانے والا ضرور آتا ہے جیسا کہ آج ہمارے درمیان موجود ہے اور اس زمانہ میں بائبل کی کثرت اشاعت جو ہوتی ہے باوجود یکہ عیسائی اپنے عقائد میں اس کو قابل عمل نہیں جانتے۔پھر کروڑوں روپے اس پر خرچ کرتے ہیں۔اس میں بھی یہی حکمت الہی ہے کہ توحید اور عبادت الہی اور اعمال صالحہ کا وعظ اس کے ذریعہ سے بھی تمام دنیا پر ہو رہا ہے۔صحابہ نے اھلہ کے متعلق جو سوال کیا وہ اس واسطے تھا کہ جب رمضان کی عبادت کے برکات انہوں نے دیکھے تو ان کو خواہش ہوئی کہ ایسا ہی دوسرے مہینوں کی عبادت کا ثواب بھی حاصل کریں اس واسطے اُنہوں نے یہ سوال پیش کیا۔فرمایا۔دو بڑے نشان آسمان پر دکھائے گئے سُورج گہن اور چاند گہن ماہِ رمضان میں۔ایسا ہی دونشان زمین پر ہیں۔قحط اور طاعون۔فرمایا۔حج کے متعلق حضرت ابراہیم کو خدا تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ آئين فِي النَّاسِ بِالحج سب سے آج تک یہ پیشگوئی پوری ہو رہی ہے۔جس طرح کبوتر اپنے کا ٹک کو دوڑتے ہیں اس طرح لوگ حج کو جاتے ہیں۔زمانہ جاہلیت عرب میں رسم تھی کہ سفر کو جاتے ہوئے کوئی بات یاد آتی تو دروازے کے راہ سے گھر میں نہ آتے۔اس سے خدا تعالیٰ نے منع فرمایا اور اس میں ایک اشارہ اس امر کی طرف ہے کہ ہر ایک کام میں اس راہ سے جاؤ اور اس دروازے سے داخل ہو جو خدا نے مقرر کیا اور اس کے رسول نے دکھایا اور رسول کے خلفاء اور اس زمانہ کا امام بتلا رہا ہے۔فرمایا۔خدا چاہتا تو اپنے رسول کے واسطے اپنے خزانے کھول دیتا اور تمہیں کچھ خرچ کرنے کی ضرورت نہ ہوتی مگر پھر تمہارے واسطے کوئی ثواب نہ ہوتا۔جب خدا کسی قوم کو عزت دینا چاہتا ہے تو یہی سنت اللہ ہے کہ پہلے اس سے اللہ کی راہ میں مالی، جانی، بدنی خدمات لی جاتی ہیں۔فرمایا۔اس زمانہ میں غلام کے چھڑانے کا ثواب مقروض کے قرضہ کے ادا کرنے سے ہو سکتا ہے۔(البدر جلد ۶ نمبر ۴۶ مؤرخہ ۱۰ نومبر ۱۹۰۷ ، صفحہ اوّل) ے لوگوں میں حج کے لئے اعلان کر۔(ناشر)