حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 483 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 483

حقائق الفرقان ۴۸۳ سُورَةُ الْبَقَرَة ہے اور نہیں معلوم کہ آئندہ چاند تک میری زندگی ہے کہ نہیں۔پس جس قدر ہو سکے وہ خیر و نیکی کے بجا لانے میں اور اعمالِ صالحہ کرنے میں دل و جان سے کوشش کرے اور سمجھے کہ میری زندگی کی مثال برف کی تجارت کی مانند ہے۔برف چونکہ پگھلتی رہتی ہے اور اس کا وزن کم ہوتارہتا ہے اس لئے اس کے تاجر کو بڑی ہوشیاری سے کام کرنا پڑتا ہے اور اس کی حفاظت کا وہ خاص اہتمام کرتا ہے ایسے ہی انسان کی زندگی کا حال ہے جو برف کی مثال ہے کہ اس میں سے ہر وقت کچھ نہ کچھ کم ہوتا ہی رہتا ہے اور اس کا تاجر یعنی انسان ہر وقت خسارہ میں ہے۔۶۴ - ۶۵ سال جب گذر گئے اور اس نے نیکی کا سرمایہ کچھ بھی نہ بنایا تو وہ گویا سب کے سب گھاٹے میں گئے۔ہزاروں نظارے تم آنکھ سے دیکھتے ہو۔اپنے بیگانے مرتے ہیں۔اپنے ہاتھوں سے تم ان کو دفن کر کے آتے ہو اور یہ ایک کافی عبرت تمہارے واسطے وقت کی شناخت کرنے کی ہے اور نیا چاند تمہیں سمجھا تا ہے کہ وقت گزر گیا ہے اور تھوڑا باقی ہے اب بھی کچھ کر لو۔لمبی لمبی تقریریں اور وعظ کرنے کا ایک رواج ہو گیا ہے ورنہ سمجھنے اور عمل کرنے کے لئے ایک لفظ ہی کافی ہے۔کسی نے اسی کی طرف اشارہ کر کے کہا ہے مجلس وعظ رفتنت هوس است مرگ ہمسایہ واعظ تو بس است اے پس ان روزانہ موت کے نظاروں سے جو تمہاری آنکھوں کے سامنے اور تمہارے ہاتھوں میں ہوتے ہیں عبرت پکڑو اور خدا تعالیٰ سے مدد چاہو اور کاہلی اور سستی میں وقت کو ضائع مت کرو مطالعہ کرو اور خوب کرو کہ بچے سے لے کر جوان اور بوڑھے تک اور بھیڑ بکری اونٹ وغیرہ جس قدر جاندار چیزیں ہیں سب مرتے ہیں اور تم نے بھی ایک دن مرنا ہے۔پس وہ کیا بدقسمت انسان ہے جو اپنے وقت کو ضائع کرتا ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وقت کی کیسی قدر کرتے تھے کہ جب ان کو ماہ رمضان کے فضائل معلوم ہوئے تو معا دوسرے مہینوں کے لئے سوال کیا کہ قرب الہی کے اگر اور ذرائع بھی ہوں تو معلوم الحکم جلد ۸ نمبر ۳ مؤرخه ۲۴ /جنوری ۱۹۰۴ ء صفحه ۱۲، ۱۳) ہو جاویں۔ا تیرا وعظ ونصیحت کی مجلس میں جانا ایک بے جاہوس ہے، تیرے لئے تو تیرے ہمسایہ کی موت ہی سب سے بڑا واعظ ہے۔(ناشر)