حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 482 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 482

حقائق الفرقان ۴۸۲ مگر نہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی با تیں تھیں جو ہر زمانہ میں اس کی ہستی کا زندہ ثبوت ہیں۔يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ کی شانِ نزول سُورَةُ الْبَقَرَة الحکم جلد ۵ نمبر ۵ مؤرخه ۱۰ فروری ۱۹۰۱ صفحه ۴ تا ۶ ) جب صحابہ (رضوان اللہ علیہم نے دیکھا کہ ایک ماہ رمضان کی یہ عظمت اور شان ہے اور اس میں قرب الہی کے حصول کے بڑے ذرائع موجود ہیں تو ان کے دل میں خیال گذرا کہ ممکن ہے کہ دوسرے چاندوں (مہینوں) میں بھی کوئی ایسے ہی اسرار مخفیہ اور قرب الہی کے ذرائع موجود ہوں وہ معلوم ہو جاویں اور ہر ایک ماہ کے الگ الگ احکام کا علم ہو جاوے اس لئے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ دوسرے چاندوں کے احکام اور عبادات خاصہ بھی بتا دیئے جاویں۔ہلال اور قمر کا تفاوت۔یہاں لفظ اهلة کا استعمال ہوا ہے جو کہ ہلال کی جمع ہے۔بعض کے نزدیک تو پہلی دوسری اور تیسری کے چاند کو اور بعض کے نزدیک ساتویں کے چاند کو ہلال کہتے ہیں اور پھر اس کے بعد قمر کا لفظ اطلاق پاتا ہے۔احادیث میں جو مہدی کی علامات آئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک ہی ماہ رمضان میں چاند اور سورج کو گرہن لگے گا۔وہاں چاند کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قمر کا لفظ استعمال کیا ہے اور اعلیٰ درجہ کا قمر ۱۳، ۱۴، ۱۵ تاریخ کو ہوتا ہے اور اس کے گرہن کی بھی یہی تاریخیں مقرر ہیں۔اس سے کم زیادہ نہیں ہوسکتا اور ایسے ہی سورج گرہن کے لئے بھی ۲۷ ۲۸ ۲۹ تاریخ ماہ قمری کی مقرر ہے۔غرض کہ قمر کا لفظ اپنے حقیقی معنوں کی رُو سے مہدی کی علامت تھی لیکن لوگوں نے تصرف کر کے وہاں قمر کے بجائے ہلال کا لفظ ڈال دیا ہے اور یہ ان کی غلطی ہے۔صحابہ کرام کے اِس سوال پر کہ اور چاندوں کے برکات وانوار سے ان کو اطلاع دی جاوے اللہ جل شانہ نے یہ جواب دیا قُلْ هِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَج۔یعنی جیسے ماہ رمضان تقوای سکھانے کی ایک شے ہے ویسے ہر ایک مہینہ جو چڑھتا ہے وہ انسان کی بہتری کے لئے ہی آتا ہے۔انسان کو چاہیے کہ نئے چاند کو دیکھ کر اپنی عمر رفتہ پر نظر ڈالے اور دیکھے کہ میری عمر میں سے ایک ماہ اور کم ہو گیا