حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 481
حقائق الفرقان لد ۱۷ سُورَةُ الْبَقَرَة اور جہاں عظمت اور ذکر الہی ہو وہاں فیضانِ الہی کثرت سے نازل ہوتا ہے۔ قومی روایات سے متفقہ یہ شہادت ملتی ہے کے بیت اللہ کا وجود تو بہت بڑے زمانہ سے ہے لیکن حضرت ابوالملة ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے جس کی تاریخ صحیح موجود ہے۔ اَبا عَنْ جدّقوموں کا مرکز اور جائے تعلیم چلا آیا ہے اور پتہ ملتا ہے کہ رات دن میں کوئی ایسا وقت بیت اللہ میں نہیں آتا کہ وہاں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت کے اوراد نہ پڑے جاتے ہوں ۔ مکہ معظمہ میں اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی صفات کا زندہ اور بین ثبوت موجود ہے چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے جَعَلَ اللهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ (المائدة: (۹۸) یعنی اس الہی گھر کو معزز گھر بنایا۔ اس کو لوگوں کے قیام اور نظام کا محل بنایا اور قربانیوں کو مقر ر کیا کہ تم کو سمجھ آ جائے کہ خدا ہے اور وہ علیم و خبیر خدا ہے کیونکہ جس طرح اس نے فرمایا ہے اُسی طرح پورا ہوا ۔ میں نے ایک دہریہ کے سامنے اس محبت کو پیش کیا۔ وہ ہوگا لگا ہی تو رہ گیا۔ لوگوں کے مکانات اور پھر مذہبی مقامات کو دیکھو کہ ذراسی انقلاب سے ساری عظمت خاک میں مل جاتی ہے۔ بابل کس عظمت و شان کا شہر تھا مگر آج اس کا کوئی پتہ بھی نہیں دے سکتا کہ وہ کہاں آباد تھا۔ کا ر نھج میں ہنی بال کا معبد، پیرامون کا مندر جہاں سکندر عظیم الشان بادشاہ آ کر نذر دیتا تھا اور اپنے آپ کو اس کا بیٹا منسوب کرتا تھا۔ آتش کدہ آذر غرض بڑے بڑے مقدس مقامات تھے جن کا نام و نشان آج زمانہ میں موجود نہیں ہے مگر مکہ معظمہ کی نسبت خدائے علیم و حکیم نے اس وقت جبکہ وہ ایک وادی غیر ذی زرع تھا یہ فرمایا کہ وہاں دنیا کے ہر حصہ سے لوگ آئیں گے۔ وہاں قربانیاں ہوں گی اور خدا تعالیٰ کی عظمت و جبروت کا اظہار ہوتا رہے گا۔ صدیاں اس پر گذر گئیں ۔ دنیا میں بڑے بڑے انقلاب ہوئے۔ سلطنتوں کی سلطنتیں تباہ ہو کر نئی پیدا ہو گئیں مگر مکہ معظمہ کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی وہ آج بھی اُسی شوکت اور جلال کے ساتھ نظر آتی ہے جس طرح پر کئی سو سال پیشتر ۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی علیم و خبیر، ہستی کا کیسا پتہ لگتا ہے۔ اگر انسانی منصوبہ اور ایک خیالی اور فرضی بات ہوتی تو ان کا نام ونشان اسی طرح مٹ جاتا جیسے دنیا کے اور بڑے بڑے مقدس قرار دیئے گئے مقامات کا نشان مٹ گیا۔