حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 481
حقائق الفرقان ۴۸۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة۔اور جہاں عظمت اور ذکر الہی ہو وہاں فیضانِ الہی کثرت سے نازل ہوتا ہے۔قومی روایات سے متفقہ یہ شہادت ملتی ہے کے بیت اللہ کا وجود تو بہت بڑے زمانہ سے ہے لیکن حضرت ابوالملة ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے جس کی تاریخ صحیح موجود ہے۔ابا عن جد قوموں کا مرکز اور جائے تعلیم چلا آیا ہے اور پستہ ملتا ہے کہ رات دن میں کوئی ایسا وقت بیت اللہ میں نہیں آتا کہ وہاں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت کے اوراد نہ پڑے جاتے ہوں۔مکہ معظمہ میں اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی صفات کا زندہ اور بین ثبوت موجود ہے چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے جَعَلَ اللهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ (المائدة: ۹۸) یعنی اس الہبی گھر کو معزز گھر بنایا۔اس کولوگوں کے قیام اور نظام کا محل بنا یا اور قربانیوں کو مقرر کیا کہ تم کو سمجھ آ جائے کہ خدا ہے اور وہ علیم وخبیر خدا ہے کیونکہ جس طرح اس نے فرمایا ہے اُسی طرح پورا ہوا۔میں نے ایک دہریہ کے سامنے اس مجت کو پیش کیا۔وہ ہکا بگا ہی تو رہ گیا۔لوگوں کے مکانات اور پھر مذہبی مقامات کو دیکھو کہ ذراسی انقلاب سے ساری عظمت خاک میں مل جاتی ہے۔بابل کس عظمت و شان کا شہر تھا مگر آج اس کا کوئی پتہ بھی نہیں دے سکتا کہ وہ کہاں آباد تھا۔کا نتیجے میں ہنی بال کا معبد، پیرامون کا مندر جہاں سکندر عظیم الشان بادشاہ آ کر نذر دیتا تھا اور اپنے آپ کو اس کا بیٹا منسوب کرتا تھا۔آتش کدہ آذر غرض بڑے بڑے مقدس مقامات تھے جن کا نام و نشان آج زمانہ میں موجود نہیں ہے مگر مکہ معظمہ کی نسبت خدائے علیم و حکیم نے اس وقت جبکہ وہ ایک وادی غیر ذی زرع تھا یہ فرمایا کہ وہاں دنیا کے ہر حصہ سے لوگ آئیں گے۔وہاں قربانیاں ہوں گی اور خدا تعالیٰ کی عظمت و جبروت کا اظہار ہوتا رہے گا۔صدیاں اس پر گذر گئیں۔دنیا میں بڑے بڑے انقلاب ہوئے۔سلطنتوں کی سلطنتیں تباہ ہو کرنئی پیدا ہو گئیں مگر مکہ معظمہ کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی وہ آج بھی اُسی شوکت اور جلال کے ساتھ نظر آتی ہے جس طرح پر کئی سو سال پیشتر۔اس سے اللہ تعالیٰ کی علیم وخبیر ، ہستی کا کیسا پتہ لگتا ہے۔اگر انسانی منصوبہ اور ایک خیالی اور فرضی بات ہوتی تو ان کا نام ونشان اسی طرح مٹ جاتا جیسے دنیا کے اور بڑے بڑے مقدس قرار دیئے گئے مقامات کا نشان مٹ گیا۔