حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 470
۴۷۰ سُورَةُ الْبَقَرَة حقائق الفرقان میں اس کا جواب دیتا ہوں۔( نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۲۴) و إذا سألك - اگر لوگ یہ سوال کریں کہ روزوں سے کیا فائدہ ہوتا ہے تو ایک تو یہاں لَعَلَّكُمْ تتَّقُونَ (البقرة : ۱۸۴) اور دوم یہ کہ انسان کو خدا کا قرب حاصل ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں بہت قریب ہو جاتا ہوں اور دعائیں قبول کرتا ہوں۔أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔اس کے یہ معنے نہیں کہ جو مانگو وہی ملے۔کیونکہ دوسرے مقام پر فرما دیا۔جوپ رکوع ۱۰ سورۃ انعام ( آیت : ۴۲) میں ہے بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إن شاء۔یعنی اگر چاہے تو اس مصیبت کو ہٹا دیتا ہے۔یہاں بھی آنی کے ساتھ اس طرف اشارہ کر دیا ہے۔فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا ئی۔فرمایا ہے یعنی جس قدر تم میرے فرمانبردار ہوتے جاؤ گے ایمان میں ترقی کرتے جاؤ گے اُسی قدر میں دعائیں قبول کروں گا۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۴، ۲۵ مؤرخه ۸ و ۱۵ را پریل ۱۹۰۹ ء صفحه ۳۲) روزہ جیسے تقوی سیکھنے کا ایک ذریعہ ہے ویسے ہی قرب الہی حاصل کرنے کا بھی ذریعہ ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان کا ذکر فرماتے ہوئے ساتھ ہی یہ بھی بیان کیا ہے۔وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيبُ - أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ۔یہ ماہ رمضان کی ہی شان میں فرمایا گیا ہے اور اس سے اس ماہ کی عظمت اور ستر الہی کا پتہ لگتا ہے کہ اگر وہ اس ماہ میں دعائیں مانگیں تو میں قبول کروں گا لیکن ان کو چاہیے کہ میری باتوں کو قبول کریں اور مجھے مانیں۔انسان جس قدر خدا کی باتیں ماننے میں قومی ہوتا ہے خدا بھی ویسے ہی اس کی باتیں مانتا ہے۔لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ماہ کو رشد سے بھی خاص تعلق ہے اور اس کا ذریعہ خدا پر ایمان، اُس کے احکام کی اتباع اور دُعا کو قرار دیا ہے۔اور بھی باتیں ہیں جن سے قرب الہی حاصل ہوتا ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳ مؤرخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۱۲)