حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 461 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 461

حقائق الفرقان ۴۶۱ سُورَةُ الْبَقَرَة وَأَطَاقَ الشَّيئَ إِطَاقَةً وَهُوَ فِي طَوْقِهِ أَتَى فِي وُسْعِهِ اور یہی محاورہ مشہورہ ہے۔ پس ہمزہ سلب کے لئے اس میں ماننا غیر مشہور ہے اور الفاظ قرآن مجید کے معنی حتی الوسع مشہور ہی لینے مناسب ہیں نہ غیر مشہور اور اگر یہ سب کچھ تسلیم بھی کر لیا جاوے تو اَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ اس کے منافی ہے کیونکہ اس کا مفہوم صرف روزے رکھنے کی فضیلت ہے نہ لزوم روزوں کا حالانکہ رمضان کے روزے فرض ولا زم ہیں نہ غیر لازم یا اختیاری ۔ جیسا کہ فَلْيَصُمُهُ اور وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ سے ثابت ہوتا ہے۔ اور اگر يُطيقون کی ضمیر فدیہ کی طرف راجع کی جاوے تو بلا وجہ وجیہ کے اضمار قبل الذکر لازم آوے گا اور اگر پھر اضمار قبل الذکر بھی تسلیم کر لیا جاوے تو ضمیر مذکر کی لفظ فدیہ کی طرف جو مونث ہے راجع ہو گی پھر اس میں تاویل در تاویل یہ کرنی پڑے گی کہ مراد فدیہ سے چونکہ طعام ہے اس لئے ضمیر مذکر لائی گئی اور یہ سب امور تکلفات سے خالی نہیں ہیں ۔ - تیسرا امر یہ ہے کہ مریض اور مسافر کا حکم پہلے ایک مرتبہ بیان ہو چکا ہے ۔ پھر آیت شَهرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآن کے آگے اس کا مکر رلانا کس فائدہ کے لئے ہے۔ اگر کہا جاوے کہ واسطے تاکید کے ، تو اس پر کہا جاوے گا کہ یہاں پر یہاں پر مقصود تاکید کب ہے۔ کیونکہ اول تو بین الفدية والصيام “ اجازت دی گئی ہے اور ثانیاً وَ اَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لکم فرما کر صرف روزے کی فضیلت بیان فرمائی ہے نہ لزوم جس کی تاکید کے لئے فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ آخر دوبارہ فرمایا جاتا۔ اندریں صورت تکرار بے سود لازم آتا ہے اور اگر مکر رہی فرمانا تھا تو وَ عَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَ کو بھی مکر رلایا جاتا۔ خلاصہ یہ کہ ایک جگہ تو فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ کے آگے وَ عَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ بھی فرمایا گیا اور وَ أَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ بھی ارشاد ہوا اور دوسری جگہ پر فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ کے آگے وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ الآية ارشاد ہوا ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات میں دو قسم کے روزے ہیں جن کا حکم علیحدہ علیحدہ ہے۔ یہ بیان تو اس صورت میں تھا کہ مراد الصیام سے س صورت میں تھا کہ مراد الصیام سے صیام رمضان ہی ہووے۔ لے لفظ طوق “ کے معنی طاقت بھی ہیں ۔ أَطَاقَ الشَّيْئَ اِطَاقَةَ اس نے کسی چیز کی بجا آوری کی طاقت رکھی ۔ ھو في طوقه ۔ وہ اس کے دائرہ استطاعت میں ہے۔