حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 455
حقائق الفرقان ۴۵۵ سُورَةُ الْبَقَرَة ايا ما مَعْدُودَت۔ہر مہینے میں تین یادہائی میں ایک۔يُطِيقُونَہ۔جو روزہ اچھی طرح رکھ سکتے ہیں۔حدیث میں ہے ایكُمْ يُطِيقُ ذَلِکَ۔وہ بعض قصوروں کے کفارہ میں فدیہ ( صدقۃ الفطر ) دے دیں۔فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ - یعنی نفلی روزوں کو مثلاً ۱۳۔۱۴۔۱۵ میں نہ رکھ سکے تو پھر رکھ لے۔فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا۔ایک آدمی کے کھانے کے بدلے تین چار کا کھانا دیدے۔تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۴۱) ۱۸۲ - شَهُرُ رَمَضَانَ الَّذِى اُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَتِ مِنَ الْهُدى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُبُهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا ط ط اَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أَخَرَ يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدَ بِكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ - ترجمہ۔رمضان کا مہینہ جس کے بارے میں قرآن اتارا گیا ( کیسا قرآن جو ) لوگوں کا رہنما ہے اور سیدھی راہ کے کھلے کھلے نشانات اور حق ناحق کا جس میں فیصلہ ہے تو (مسلمانو ) تم میں سے جو شخص مقیم ہو یا اس مہینے کو پاوے (اس میں حاضر ہو ) تو چاہیے کہ اس کے روزے رکھے پھر جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں سے گنتی پوری کر لے (رمضان کے سوا اور دنوں میں روزے رکھ لے اللہ تمہارے ساتھ آسانی کرنا چاہتا ہے سختی نہیں کرنا چاہتا نتیجہ یہ کہ تم پوری کر لو گنتی اور اللہ نے جو تمہاری رہنمائی فرمائی ہے اس کے شکریہ میں اس کی بڑائی اور تعظیم کرو، اور تا کہ تم اس کا احسان مانوشکر کرو۔شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ - قرآن شریف کا طرز ہے کہ پہلے عام فضائل سکھاتا ہے پھر خاص فضیلت کی بات۔اسی طرح پہلے عام رذائل سے ہٹاتا ہے پھر ارذل الرذائل شرک سے۔پہلے عام بات کا حکم ہوتا ہے پھر خاص کا۔مثلاً پہلے عمرہ وغیرہ کا ذکر ہے پھر حج کا۔پہلے صدقات کی ترغیب ہے پھر زکوۃ کی۔اسی طرح پہلے یہاں عام طور پر نفلی و فرضی روزوں کا حکم دیا