حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 454 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 454

حقائق الفرقان ۴۵۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ۱۸۵ - آيَامًا مَّعْدُودَتِ ، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا ط فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ وَ اَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ - ترجمہ۔چند روز گنتی کے ( روزے رکھنا ہے ) پھر جو شخص تم سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرے ( یعنی اور دنوں میں روزے رکھ لے) اور جو طاقت رکھتے ہیں وہ کھانا بھی دیں ایک بے سامان کو پھر جو اپنی خوشی سے کچھ نیکی کرنی چاہے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے، اور روزہ رکھنا بہر حال اچھا ہے تمہارے حق میں جب تم سمجھو۔تفسیر۔وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَ۔اور جو صوم کی طاقت رکھتے ہیں یعنی جنہیں روزے رکھنے میتر آ جاویں۔فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسکین۔وہ ایک مسکین کا کھانا بطور صدقہ دیں۔یہ صدقۃ الفطر کی طرف اشارہ ہے۔چنانچہ تعامل سے ثابت ہے کہ ہر روزہ دار نماز عید سے پہلے ایک مسکین کا کھانا صدقہ دیتا ہے دوسرا میرا اپنا طرز پسندیدہ جو آثار سلف کے مطابق ہے یہ ہے کہ خود روزہ رکھا اور اپنی روٹی کسی غریب کو کھلا دی اور جو لوگ اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ جو لوگ طاقت نہیں رکھتے وہ فدیہ دیں یہ بھی ایک ہے۔نفلی روزوں میں ایسا کر لیں کہ ہر دوشنبه و جمعہ وایام بیض کو روزہ نہیں رکھ سکتے تو اس روز مسکین کو کھانا کھلا دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا کیونکہ آپ تو ماہ صیام میں موسم بہار کی ہوا سے بڑھ کر جو دوسخا میں ہوتے تھے۔فَمَن تَطَوَّعَ۔جو شخص کوئی نیکی خوش دلی سے کرے وہ بہت اچھی ہے اور یہ کہ روزہ رکھنا تو بہت ہی مفید ہے اس سے دُعا کی قبولیت ہوتی ہے۔صبر و استقلال اور نواہی سے بچنے کی مشق ہوتی ہے اپنی اصلاح ہوتی ہے۔یہ بات یادر ہے کہ کمزور لوگوں کے لئے اس قسم کے مجاہدات منع ہیں جن میں روزہ رکھتے ہوں اور وہ اخیر میں خشکی دماغ سے نیم سودائی ہو جاویں اور کسی کام کے نہ رہیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۴، ۲۵ مورخه ۸، ۱۵ را پریل ۱۹۰۹ء صفحه ۳۱، ۳۲)