حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 453 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 453

حقائق الفرقان ۴۵۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ایک وقت ترک کرتا ہے جن کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے اور ان کے کھانے پینے کی اجازت دی ہے صرف اس لئے کہ اس وقت میرے مولیٰ کی اجازت نہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ پھر وہی شخص ان چیزوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرے جن کی شریعت نے مطلق اجازت نہیں دی اور وہ حرام کھاوے پیوے اور بدکاری میں شہوت کو پورا کرے۔(الحکم جلد ۸ نمبر ۳ مؤرخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۱۲) صوم ایک محبت الہی کا بڑا نشان ہے۔روزہ دار آدمی کسی کی محبت میں سرشار ہو کر کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے اور بیوی کے تعلقات اس سے بھول جاتے ہیں۔یہ روزہ اسی حالت کا اظہار ہے۔یہ بھی غیر اللہ کے لئے جائز نہیں۔البدر جلد ۹ نمبر ۱۲ مؤرخہ ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۲) روزے داری کا ستر یہ ہے کہ سلیم الفطرت پیاس کے وقت گھر میں دودھ ، بالائی ، برف رکھتا ہے کوئی اس کو روکنے والا نہیں۔بھوک کے وقت گھر میں انڈے، مرغیاں، پلاؤ موجود اور کوئی روکنے والا نہیں۔قوت شہوانیہ موجود۔گھر میں اپسر ادلر با موجود۔پھر اس کے نزدیک نہیں جاتا۔صرف الہی حکم کی پابندی سے وہ رکتا ہے۔اس مشق سے وہ حرام کاری حرامخوری سے کس قدر بچے گا ! مگر یہ تو بتاؤ کہ سمادھی کا حبس نفس چرند پرند کرتے ہیں اور کاربن کا روکنا مفید ہوسکتا ہے؟ پرانایام میں آریہ سانس بند کرتے ہیں۔( نورالدین بحوالہ ترک اسلام۔کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن صفحہ ۲۷۱) ہماری کتاب قرآن شریف روزہ کا حکم دیتی ہے تو اس کی وجہ بھی بتاتی ہے کہ کیوں روزہ رکھنا چاہیے لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة: ۱۸۴) روزہ رکھنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم دکھوں سے بچ جاؤ گے اور سکھ پاؤ گے۔رمضان ہی میں کیوں رکھیں ؟ اس کی وجہ بتائی شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ (البقرة: ۱۸۲) چونکہ اس میں قرآن نازل ہوا، یہ برکات الہیہ کے نزول کا موجب ہے اس لئے وہ اصل غرض جو لعلكم تَتَّقُونَ میں ہے، حاصل ہوتی ہے۔الحکم- جلد ۶ نمبر ۴۴ مورخه ۱۷ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۵)