حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 449 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 449

حقائق الفرقان ۴۴۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ۱۸۲ - فَمَن بَدَّلَهُ بَعْدَ مَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ترجمہ۔پھر جو کوئی ( شرعی ) وصیت کو سن سنا کر بدل دے تو بس اُس کا گناہ انہیں لوگوں پر ہے جو اُس ( وصیت کو ) بدلیں ، بے شک اللہ بڑا سننے والا ، بڑا جاننے والا ہے۔تفسیر - إِنَّ اللهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ۔فرماتا ہے کہ ہم علیم خدا ہیں۔سمجھ بوجھ کر حصص مقرر کئے ہیں اور وصیتوں کے بدلانے کو بھی سنتے ہیں چنانچہ فرماتا ہے وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَة يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا (النساء: ۱۵) فَمَن بدله - اب سن لو کہ کیا کچھ تبدیل کیا گیا ہے۔سب سے اول تو یہ کہ لڑکیوں کو ورثہ نہیں دیا - لو جا تا۔خدا تعالیٰ نے عورت کو بھی حزث فرمایا ہے اور زمین کو بھی۔ایسا ہی زمین کو بھی ارض فرمایا ہے اور عورتوں کو بھی۔فَإِنَّمَا اثْمه۔چنانچہ اس کا نتیجہ دیکھ لو کہ جب سے ان لوگوں نے لڑکیوں کا ورثہ دینا چھوڑا ہے ان کی زمینیں ہندوؤں کی ہو گئی ہیں۔جو ایک وقت سو گھماؤں زمین کے مالک تھے اب دو بیگھہ کے بھی نہیں رہے۔یہ اس لئے کہ صریحاپ سورۃ نساء رکوع میں فرما یا وَ لَهُ عَذَابٌ مُهين " (النساء: ۱۵) اب اس سے زیادہ اور کیا نت ہوگی۔عورتوں پر جو ظلم ہورہا ہے وہ بہت بڑھ گیا ہے۔خدا تعالی فرماتا ہے و لا تُمْسِكُوهُنَّ صِرَارًا " (البقرة :۲۳۲) دوسرا وَ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء :٢٠) تیسرا وَلَا تُضَارُوهُنَّ (الطلاق:-) چوتھا فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ النِّسَاءِ:۲۰) پنجم وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ (البقرۃ: ۲۲۹) باوجود اس کے وراثت کے کا ظلم بہت بڑھ رہا ہے۔پھر دوسرا یہ کہ بعض لے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی (باندھی ہوئی ) حدوں سے بڑھ چلے ( تو اللہ ) اس کو دوزخ میں ( لے جا) داخل کرے گا ( اور وہ ) اس میں ہمیشہ (ہمیشہ رہے گا۔(ناشر) ۲؎ اور اس کو ذلت کی مار دی جائے گی۔۳) اور اُن کو تکلیف دینے کو نہ رکھنا۔آے اور ان بیبیوں کے ساتھ حسن سلوک سے رہو سہو۔۵ اور ان کو ایذا نہ دو۔4 اور تم کو بی بی ( کسی وجہ سے ) نا پسند ہو۔کے اور عورتوں کا بھی حق ہے جیسا مردوں کا اُن پر حق ہے۔یعنی ورثہ نہ دینے کا۔(ناشر)