حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 445 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 445

۴۴۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة حقائق الفرقان ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَى وَالْمَسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّابِلِينَ وَ فِي الرِّقَابِ (البقرة : ۱۷۸) اس آیت میں حقیقی نیکی کو انہی دوحصوں پر منقسم فرمایا ہے جن میں سے پہلے حصہ میں ایمان یا طاعت لأمر الله کا ذکر ہے اور دوسرے میں مال کے خرچ کرنے یا شفقت على خَلْقِ اللہ کا حکم ہے اور انفاق فی سبیل اللہ میں ذَوِی الْقُرْبی کے بعد دوسرے درجہ پر مستحق امداد یتامی کو قرار دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بھائیوں پر رحم کرنے کے متعلق جو تاکید فرمائی ہے۔اس سے حدیث کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔چنانچہ ایک حدیث میں فرمایا ہے۔تَرَى الْمُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى عُضُوا تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمى (صحيح بخاری کتاب الادب باب رحمۃ الناس والبهائم ) یعنی مومن باہم ایک دوسرے پر رحم کرنے اور ایک دوسرے سے محبت کرنے اور ایک دوسرے پر مہربانی کرنے میں ایک جسم کے حکم میں ہیں۔اگر جسم کے ایک عضو کو تکلیف پہنچے تو اس کی خاطر سارا جسم تکلیف اٹھاتا ہے اور پھر خصوصیت سے ان بے کس بچوں پر رحم کے لئے جنہیں یتیم کہتے ہیں۔فرمایا۔انا وَ كَافِلُ الْيَتِيم لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا (صحيح البخارى كتاب الطلاق باب اللعان) یعنی میں اور وہ شخص جو یتیم کی خبر گیری کرتا ہے۔جنت میں اس طرح سے ملے ہوئے ہوں گے۔جس طرح دو انگلیاں باہم ملی ہوئی ہیں۔ایک سچے مومن کی آرزو اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتی ہے کہ نہ صرف جنت میں ہو بلکہ جنت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو۔اس کے لئے فرمایا کہ جو یہ چاہتا ہے کہ یتیم کا کفیل بن جاوے۔خواہ وہ یتیم کوئی اس کا اپنا رشتہ دار ہو یا کوئی اور ہو۔میرے دوستو ! تم میں سے کون ہے جو یہ نہ چاہتا ہو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنت میں ہو۔پس تم علیحدہ علیحدہ تو قیموں کے کفیل بن نہیں سکتے۔اگر تم اس ثواب میں شریک ہونا چاہو تو یتیم فنڈ کے لئے کچھ اپنے ذمہ لگا لو خواہ وہ تھوڑی رقم ہی ہو۔یہاں انجمن کی زیر نگرانی تمہاری قوم کے بہت سے یتیم بچے پرورش پارہے ہیں اور بہت سے ہیں جن کی درخواستیں آتی ہیں۔پس جو شخص تم میں سے، جو شخص تم میں سے ان کی پرورش کے لئے چندہ دیتا ہے وہ یتیم کی کفالت کرتا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کے مخلص جلد اس طرف توجہ کر کے یتیم فنڈ کی موجودہ حالت کو