حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 439 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 439

حقائق الفرقان ۴۳۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة جڑ ہی خشک ہو تو پتوں کو پانی میں تر کرنے سے کیا فائدہ؟ جڑ سیراب ہونی چاہیے درخت مع اپنی تمام شاخوں اور پتوں کے خود بخو دسر سبز و شاداب ہو جاوے گا اور ہرا بھرا نظر آنے لگے گا ورنہ اگر جڑ ہی قائم نہیں تو پتوں اور شاخوں کو خواہ پانی میں ہی کیوں نہ رکھو وہ ہرگز ہرگز ہری بھری نہ ہوں گی بلکہ دن بدن خشک ہوتی جاویں گی۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۲ مؤرخه ۲۶ مارچ ۱۹۰۸ ء صفحه ۶،۵) فرماتا ہے تم مشرق مغرب کو فتح کر رہے ہو یہ نیکی نہیں۔نیکی تو اس وقت ہوگی جب اس فتح مندی کے ساتھ اللہ پر تمہارا ایمان ہو گا اگراللہ پر ایمان نہیں تو پھر تمہاری ہستی کیا ہے؟ پھر یومِ آخرت پر ایمان ہو۔جو لوگ کہتے ہیں ” دُنیا ٹھگے مکر سے روٹی کھائے شکر سے“ وہ بے ایمان ہیں۔دیکھو جب تک خشیة اللہ نہ ہو ، آخرت پر ایمان نہ ہو حرام خوری سے نہیں رک سکتے۔میں نے ریاستوں میں رہ کر دیکھا وہاں نوشیروانی ہوا کرتی تھی۔ایک شخص عرضیاں سنایا کرتا تھا۔ایک اہل غرض نے اس عرضیاں سنانے والے کوسور و پیہ دیا کہ تم یہ عرضی اس ترتیب سے سنا دینا چنانچہ اس نے عرضی بڑی عمدگی سے سنائی اور کہا حضور بڑی قابل توجہ ہے اور ساتھ سورو پیر رکھ دیا کہ اس نے مجھے رشوت کا دیا ہے۔رئیس کے دل میں عظمت بیٹھ گئی کہ یہ کیسا ایمان دار آدمی ہے۔میں اسے جانتا تھا کہ وہ بڑا حرام خور ہے میں نے کہا۔یہ کیا؟ کہا مولوی صاحب آپ نہیں جانتے یہ سوروپیہ ظاہر کر دیا اس سے پچھلا تو ہضم ہو جائے گا اور آئندہ کے لئے راہ کھل جائے گا یہ راجہ لوگ تو اُ تو ہوتے ہیں ہم نے اس حیلہ سے اپنا اُ تو سیدھا کرلیا۔دیکھو میرے جیسا شخص اگر خائن ہو جائے تو ہزاروں روپے کما سکتا ہے مگر آخرت پر ایمان ہے جو اس بات کا وہم تک بھی آنے نہیں دیتا۔مسلمانوں کو سمجھاتا ہے کہ فاتح ہونے میں بڑائی نہیں بلکہ ایمان بالله و ایمان بالیوم الآخر میں بڑائی ہے۔پھر ملائکہ پر ایمان ہو جو تمام نیک تحریکوں کے مرکز ہیں۔پھر اللہ کی کتابوں پر اور اللہ کے نبیوں پر ایمان ہو۔پھر خدا کی راہ میں کچھ دے۔میں نے تجربہ سے آزمایا ہے جو کنجوس ہو وہ حق پر نہیں پہنچتا۔بعض دفعہ سخاوت والے انسان کے لئے کسی محتاج کے دل سے دعا نکلتی ہے۔جا تیرا دونوں جہان میں بھلا! اور پھر وہ عرش تک پہنچتی ہے اور اسے جنت نصیب ہو جاتا ہے۔ایک یہودی تھا وہ بارش کے دنوں میں چڑیوں کو چوگا ڈالا کرتا۔بزرگ ملاں تھا