حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 438
حقائق الفرقان ۴۳۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اس نظارے کو ہمیشہ آنکھ کے سامنے رکھو اور پھر دیکھو توسہی کیا گناہ ہو ناممکن ہے؟ جب انسان ذراسی بے عزتی اور معدود چند آدمیوں میں ہتک کے باعث ہونے والے کاموں سے پر ہیز کرتا ہے اور ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں میری ہتک نہ ہو جاوے۔تو پھر جس کو اس نظارے کا ایمان اور یقین ہوجس کا نام يوم الآخرۃ ہے تو بھلا اس سے بدی کہاں سرزد ہو سکتی ہے۔پس يوم الآخرة پر ایمان لانا بھی بدیوں سے بچاتا ہے۔تیسرا بڑا ذریعہ نیکی کے حصول و توفیق اور بدی سے بچنے کا ایمان بالملائکہ ہے۔ہر نیکی کی تحریک ایک ملک کی طرف سے ہوتی ہے اس تحریک کو مان لینے سے اس ملک کو اس ماننے والے سے اُنس اور محبت پیدا ہو جاتی ہے اور آہستہ آہستہ یہ تعلق گہرا ہو جاتا ہے اور اس طرح سے ملائکہ کے نزول تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔پس چاہیے کہ انسان کے دل میں جب کوئی نیکی کی تحریک پیدا ہو فوراً اس کو مان لے اور اس کے مطابق عمل درآمد کرے اور اس پر اچھی طرح سے کار بند ہو جاوے ورنہ اگر اس موقع کو ہاتھ سے دے دے گا تو پچھتانا بے سود ہوگا۔بعض لوگ پچھتاتے ہیں کہ فلاں وقت اور موقع کیسا اچھا تھا یہ کام ہم نے کیوں اس وقت نہ کر لیا۔پس نیکی کی تحریک کا موقع فرصت اور وقت مناسب اور نیک فال سمجھ کر فور امان لینا چاہیے۔اس طرح سے نیکی کی توفیق بڑھتی جاتی ہے اور انسان بدیوں سے دُور ہوتا جاتا ہے۔پھر اس بات کا اعتقا در کھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی کامل رضامندی اور خوشنودی کے حصول کا ذریعہ صرف كتب النبی اور انبیاء ہیں۔خدا کے مقدس رسولوں کی پاک تعلیم اور کتب البیہ کی سچی پیروی کے سوا خدا کی رضامندی ممکن ہی نہیں۔خدا کی پہچان اور اس کی ذات صفات اور اسماء کا پتہ خدا کی کتابوں اور اس کے رسولوں کے بغیر لگ ہی نہیں سکتا۔خدا کے اوامر و نواہی اور عبادت و فرمانبرداری کے احکام معلوم کرنے کا ذریعہ کتب الہیہ ہی ہیں جو خدا کے پاک رسولوں کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہیں۔غرض انسان کے عقائد درست ہوں تو فروعات خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔انسان کو لازم ہے کہ اصل الاصول پر توجہ کرے فروعات تو ضمنی امور ہیں اور اصول کے ماتحت غور کر کے دیکھو کہ جس انجمن ،جس کمیٹی اور سوسائٹی نے صرف فروعات میں کوشش کی ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔دیکھو اگر