حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 437 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 437

حقائق الفرقان ۴۳۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اندھیری سے اندھیری کوٹھڑی میں جا کر کیا جاوے اس سے پوشیدہ نہیں ہے اور یہ کہ وہ انسان کا بڑا مربی ، رب محسن اور احکم الحاکمین ہے تو پھر انسان کیوں گناہ کی جگر سوز آگ میں پڑسکتا ہے۔پس ان باتوں میں غور کرنے سے نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ انسان کو خدا اور اس کے صفات اور افعال اور علیم وخبیر اور ہر بات سے واقف ہونے اور قادر مقتدر اور منتم اور شدید البطش ہونے پر ایمان نہیں۔ہر بدی خدا کے صفات سے غافل ہونے کی وجہ سے آتی ہے۔صفات النبی پر ایمان لانے کی کوشش کرو۔انسان اگر خدا کے علیم، خبیر اور احکم الحاکمین ہونے پر ہی ایمان لاوے اور یقین جانے کہ میں اُس کی نظر سے کسی وقت اور کسی جگہ بھی غائب نہیں ہوسکتا تو پھر بدی کہاں اور کیسے ممکن ہے کہ سرزد ہو۔غفلت کو چھوڑ دو کیونکہ غفلت گناہوں کی جڑ ہے ورنہ اگر غفلت اور خدا کےصفات سے بے علمی اور بے ایمانی نہیں تو کیا وجہ ہے کہ خدا کو قادر مقتدر اور احکم الحاکمین علیم وخبیر اور اخذ شد ید والا مان کر اور یقین کر کے بھی اس سے گناہ سرزد ہوتے ہیں حالانکہ اپنے معمولی دوستوں، آشناؤں، حاکموں اور شرفاء کے سامنے جن کا نہ علم ایسا وسیع اور نہ ان کی طاقت اور حکومت خدا کے برابر۔ان کے سامنے بدی کا ارتکاب کرتے ہوئے رُکتا ہے اور خدا سے لا پرواہ ہے اور اس کے سامنے گناہ کئے جاتا ہے اس کی اصل وجہ صرف ایمان کی کمی اور صفات الہی سے غفلت اور لاعلمی ہے۔پس یقین جانو کہ اللہ اور اس کے اسماء اور صفات پر ایمان لانے سے بہت بدیاں دور ہو جاتی ہیں پھر انسان کی فطرت میں یہ بھی رکھا گیا ہے کہ انسان اپنی ہتک اور بے عزتی سے ڈرتا ہے اور جن باتوں میں اسے اپنی بے عزتی کا اندیشہ ہوتا ہے ان سے کنارہ کش ہو جاتا ہے۔پس غور کرنا چاہیے کہ دنیا میں اس کا دائرہ بہت تنگ ہے۔زیادہ سے زیادہ اپنے گھر میں یا محلے میں یا گاؤں یا شہر میں یا اگر بہت ہی مشہور اور بہت بڑا آدمی ہے تو ملک میں بدنام ہوسکتا ہے مگر قیامت کے دن جہاں اولین و آخرین خدا کے کل انبیاء، اولیاء، صحابہ اور تابعین اور کل صالح اور متقی مسلمان بزرگ باپ دادا اور پڑدادا وغیرہ اور ماں بہن ، بیوی بچے غرض کل اقربا اور پھر خود ہمارے سر کار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہوں تو ذرا اس نظارے کو آنکھوں کے سامنے رکھ کر اس ہتک اور بے عزتی کا خیال تو کرو اور