حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 423
حقائق الفرقان ۴۲۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة تیسری بات نیک اعمال کی طرف اپنے تئیں متوجہ کرنا۔چوتھی بات نماز۔پانچویں بات زکوۃ۔چھٹی بات روزہ۔ساتویں بات حج۔مجھے نہایت افسوس ہے کہ ایسی تعلیم میں نے اپنی اسلامی کتابوں میں کم دیکھی ہے اور اگر ہے بھی تو انگریزی سکولوں کی پڑھائی کے اثر کے سامنے اس کا کچھ اثر نہیں۔جس قدر کوئی کسی مصنف کی کتاب پڑھتا ہے اس مصنف کے عقائد و اعمال کا ایک مخفی اثر پہنچتا رہتا ہے اس کے ازالہ کے لئے ضروری ہے کہ انگریزی کتب کے خفیہ اثر کو دینی تعلیم سے زائل کیا جائے اور وہ دینی تعلیم قرآن مجید میں ہے۔اس سے پہلے توحید کا بیان کرتا آتا ہے اب ایک گر سمجھا تا ہے کہ لوگو! جو اس زمین میں ہے اس سے کھا لومگر دوشرطیں ہیں ایک تو یہ کہ حلال ہو۔بالباطل رزق نہ ہو۔حلال کا علم کیسا ضروری ہے اور حلال کیسا مفید ہے اس کے متعلق بیان بہت طویل ہے۔پھر حلال ہو تو طیب بھی ہو۔بعض لوگ مسلمانوں میں ایسے گزرے ہیں کہ وہ پلاؤ پکوائیں گے تو اس میں تھوڑی سی راکھ ڈلوائیں گے۔ایک صوفی کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ حلوا، ساگ، دال، دودھ، چھاچھ سب کچھ ملا کر رکھ چھوڑتا جب کس جاتا تو کھاتا۔یہ طیب رزق نہیں ہے۔بس میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ رزق حلال کھاؤ پھر وہ طیب بھی ہو۔وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيطن۔وہ چال نہ چلو جس پر شیطان چلا۔شیطان وہ ہے جو خدا سے دُور ہے۔اس شیطان کا پتہ اس طرح لگتا ہے کہ وہ تمہیں بدی اور بے حیائی کی باتوں کی ترغیب دیتا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۳ مؤرخہ یکم اپریل ۱۹۰۹ صفحه ۲۷) ١١،١٧٠ - اِنَّمَا يَأْمُرُكُمْ بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَ اَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ وَ إِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا اَنْزَلَ اللهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا الفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا اَو لَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَ لَا يَهْتَدُونَ - ترجمہ۔وہ تو تمہیں عام بدیوں اور کھلی ہوئی قباحتوں کا ہی حکم دے گا اور یہ کہ بے جانے بوجھے اللہ پر بہتان باندھو۔اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ( فقط ) جو حکم اللہ نے اتارا ہے اُسی پر چلو تو جواب