حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 422 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 422

حقائق الفرقان ۴۲۲ سُوْرَةُ الْبَقَرَة کلمہ شہادت کی شہادت ، نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ۔بس اس کے آگے خاموشی ہے حالانکہ کئی باتیں اور بھی ایسی ہیں جو بعینہ اسی طرح فرض عین ہیں جیسے کہ نماز روزہ۔دیکھو۔یادرکھو نیک کام کرنا بھی فرض عین ہے اور بدی سے بچنا بھی فرض عین ہے۔کسی مسلمان سے پوچھیں پہنچ ارکانِ اسلام کیا ہیں تو وہ سنادے گا مگر اس کے ساتھ چوری ، حرام زدگی ، رنڈی بازی اور قسم قسم کی بدکاریوں کا ذکر ہو تو افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس کی پرواہ نہیں کی جاتی۔جھوٹ کا مرض بڑھتا جاتا ہے مگر بچپن میں اس کا کوئی علاج نہیں کیا جاتا۔حالانکہ سر چشمه شاید گرفتن به میل چو پرشد نشاید گذشتن به پیل لے ایک سچی مثل ہے آم کا درخت ہے جب اس کا پودہ زمین سے نکلے تو اکھیڑا جاسکتا ہے مگر جب وہ بڑا درخت بن جائے تو اُسے اکھیڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔اسی طرح بدیوں کی مثال ہے انہیں پہلے ہی روکو۔تا نیکی کی طرف تمہاری طبیعت رجوع رہے۔جس طرح نماز روزہ فرضِ عین ہے اسی طرح جھوٹ سے، بدنظری سے، بد سمعی سے (جو زنا کے مقدمات ہیں ) سستی سے، کاہلی سے طمع سے ، حرص سے، تکبر سے بچنا بھی نہایت ضروری ہے۔میں نے اپنی تحقیق میں چودہ ضروریات اسلام سمجھے ہیں اور وہ تمام نیکیوں اور بدیوں سے بچنے کے اصول ہیں۔(۱) اللہ پر ایمان۔اس کے ساتھ اللہ کی صفات پر ایمان ، اس کے افعال پر ایمان ، اس کی معبودیت پر ایمان۔اتنا ایمان لانا ضروری ہے۔دوسری بات اللہ کے فرشتوں کی تحریکوں پر ایمان۔تیسری بات اللہ کے کلام پر ایمان۔چوتھی بات اللہ کے پاک رسولوں پر ایمان۔پانچویں بات مسئلہ تقدیر پر ایمان جو تمام کامیابیوں کی جڑ ہے۔چھٹی بات ختم نبوت پر ایمان۔ساتویں بات بعث بعد الموت۔یہ سات حصے نیکیوں کے اصول میں ہیں۔عملی حصے میں پہلی بات اللہ کی توحید کا اقرار کرنا۔دوسری بات ہر ایک قسم کی بدعملیوں سے بچنا۔اے چشمے کا سوراخ ایک سلائی سے بند کیا جا سکتا ہے لیکن جب وہ بھر جاتا ہے تو اس کو ایک ہاتھی کے ذریعہ بھی عبور نہیں کیا جاسکتا۔( ناشر )