حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 418
حقائق الفرقان ۴۱۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة کے لئے ہر قسم کے منافع کے واسطے سمندر میں پہلے پتلے پانیوں پر بڑے بڑے بوجھوں کے ساتھ دوڑ رہے ہیں اور اس میں کہ اللہ تعالیٰ ویران و غیر آبادزمینوں کو اس پانی سے آباد کر دیتا ہے جس کو وہ آپ بادلوں سے اُتارتا ہے اور اس میں کہ پینے کے لئے پانی، کھانے کے لئے کھانے ، غرض آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کی روشنی و اندھیری اور بادلوں کی بارش کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہی زمین میں ہر قسم کے جانداروں کو پھیلایا اور ہواؤں کے ادھر ادھر پھیرنے میں کہ کہیں ان میں کوئی حیوانات و نباتات کی زندگی کا باعث ہیں۔کہیں خون کے صاف کرنے اور گھسے پسے اجزا کے نکالنے میں مددگار۔کہیں جہازوں اور کشتیوں کے لے جانے میں مفت کے مزدور کہیں بادلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے میں فرمانبردار۔کہیں ضرورت کے موافق ذرات کو جمع کر دیں۔کہیں صفائی میں مدد دیں اور بادلوں میں جو آسمان وزمین کے درمیان اللہ تعالیٰ کے قبضہ حکم میں مسخر ہو رہے ہیں۔ضرور ہی ان باتوں میں اللہ تعالیٰ کی ہستی، اس کی یکتائی، اس کی کاملہ صفات، حکمت، قدرت، علم ، رحم وغیرہ وغیرہ کے نشان ہیں مگر صرف اس قوم کے واسطے جو عقلِ سلیم رکھتے ہیں۔( تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائزڈ ایڈ یشن صفحہ ۲۱۱، ۲۱۲) الْمُسَخَّر - مفت کام میں لگائے گئے۔تسخیر کے علم والے دیکھیں۔ہمارے لئے بغیر کسی عمل پڑھنے کے سب کچھ مسخر ہے۔تفخیذ الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹۔ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۴۱،۴۴۰) ہماری کتاب بڑی عجیب ہے۔ہماری کیا ؟ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بلکہ اللہ تعالیٰ کی۔دنیا کی کوئی کتاب نہیں جو سائنس کی طرف توجہ دلاتی ہو۔قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ في خَلْق السموت (البقرة : ۱۶۵) اس میں آسمان کی بناوٹ کا ذکر ہے۔وَ الْأَرْضِ پھر زمین کے بارہ میں سارا علم جیالوجی داخل کر دیا وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ میں علم جغرافیہ آ جاتا ہے۔وَالْفُلْكِ الَّتِى تَجْرِى فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ اس میں سٹیمر ، جہاز ، قطب شمالی کی سوئی ،سمندر، پانی، ہوا اور کشتیوں کا علم آجاتا ہے۔وَ مَا انْزَلَ اللهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا اس میں بخارات اور بارشوں اور نباتات کا علم آجاتا ہے۔وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ اس میں جانوروں کا