حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 416 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 416

حقائق الفرقان ۴۱۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة دریافت کرنے آئے ہیں۔آپ نے فرمایا میں تو اس حیرت میں ہوں کہ یہاں بغداد میں لاکھوں آدمی رہتے ہیں ہر ایک کی ضرورت مختلف ہے۔کوئی چین سے ، کوئی جبش سے، کوئی کسی اور بحری مقام سے وابستہ ہے پھر ہر ایک ضرورت کے لئے جہاز پر جہاز اڑے چلے آتے ہیں اور سنتا ہوں نہ ان پر کوئی ملاح ہے، نہ ان کا کوئی مالک ہے، نہ انہیں کوئی چلانے والا ہے۔اس پر اس دہر یہ جماعت کا بڑا بولا کہ معلوم ہوتا ہے آپ کے دماغ کو کوئی صدمہ ہو گیا ہے۔یہ کام بغیر کسی مدبر بالا رادہ کے نہیں چل سکتا اور نہ چل رہا ہے۔آپ نے فرمایا بغداد کی کارروائی تو بغیر کسی مدبر کے نہ چلے مگر آسمان و زمین کا کارخانہ خود بخود چلتا رہے۔اس پر وہ بہت ہی نادم ہوئے اور چلے گئے۔مجھے بھی کئی دہریوں سے گفتگو کا اتفاق ہوا۔ایک دفعہ میں نے ایک دہریہ سے اس دری کی طرف اشارہ کر کے جس پر ہم بیٹھے تھے پوچھا اس کا یہ دھاگا یہاں سے پلٹ کر ادھر کیوں گیا ہے۔اس نے کہا مد تبر بالا رادہ دری کے بننے والے نے اسے پیچدار بنالیا۔میں نے کہا آپ نے اس دری کا بننے والا دیکھا۔کہا نہیں۔مگر ایسی دریاں بنتے میں نے دیکھی ہیں۔جب اسے سمجھایا گیا کہ تم لوگ تو تماثل اجسام کے قائل نہیں تو اس نے ہنس کر بات کو ٹالنا چاہا۔یہاں وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ تک تو اپنی ہستی اور صفت رحمانیت کا ثبوت دیا اب رحیمی صفت کا بیان ہوتا ہے پہلے تو جہازوں کو لوجن سے لوگوں کو بہت نفع پہنچتا ہے۔یہ دوسرے ممالک کے ناموں کا بائیکاٹ کرنے والے اور سودیشی تحریک کے بانی اس آیت کا انکار کرنے والے ہیں اگر ہم آج یہ تفریق کریں گے کہ فلاں ملک کی چیز خواہ کیسی اچھی ہو ہم نہیں لیتے۔توکل پھر بعض شہروں کا بائیکاٹ کریں گے پھر مذہبی تفریق درمیان میں آئے گی۔مسلمان کہیں گے ہم ہندوؤں کی نہیں خریدتے اور ہندو کہیں گے ہم عیسائیوں سے یہ معاملہ نہیں رکھتے۔پھر مذہبوں کی آپس میں تفریق ہو گی۔وہابی کہیں گے ہم حنفیوں کی بنی ہوئی چیزیں نہیں خریدتے اور حنفی کہیں گے ہم احمدیوں کی نہیں خریدتے۔اس طرح تو بڑا فساد پڑے گا۔پھر اوپر سے پانی کا برسنا اور اس پانی سے فائدہ اُٹھانا۔یہ بھی رحیمی صفت کے ماتحت ہے۔پھر