حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 410
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْبَقَرَة درندوں کا بھی ڈر تھا کوئی آبادی بھی نہ تھی۔مگر اس صبر کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج مکہ ایک عظیم الشان شہر آباد ہے جو کر وڑ ہا مخلوق کا ملجاو ماوی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو میرے نام کے لئے صبر کر کے اس کے نتائج سے آگاہی حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ صفا و مروہ سے جا کر یہ شعور، یہ معرفت حاصل کریں کیونکہ وہ مقام اللہ کی طرف سے صبر کے نتائج کے شعور کے حصول کا ذریعہ مقرر شدہ ہے جو حج کرنے جائے وہ وہاں ذرا چل کر پھر کر دیکھے کہ ہمارا فضل اس صابرہ پر کیسا ہوا۔ہم کیسے قدردان ہیں۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۲ مورخه ۲۵ / مارچ ۱۹۰۹ء صفحه ۲۶،۲۵) إِنَّ الصَّفا - صبر کے نتائج نیک کی مثال۔ایک بیوی کے صبر سے مکہ مرجع خلائق بن گیا۔تشخیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۴۰) صبر اور پھر اس پر اجر کی ایک مثال بیان فرماتا ہے اور وہ صفا ومروہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے شعائر اللہ سے قرار دیا ہے۔اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَابِدِ اللہ۔یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت ہاجرہ اپنے بیٹے اسمعیل کے ساتھ حکم الہی کے ساتھ چھوڑ دی گئیں۔وہاں آپ نے صبر سے کام لیا تو اس کا جو انجام ہوا وہ صفا ومروہ پر جا کر دیکھ لو کہ کیسی گھمسان کی آبادی ہے اور کس طرح پر دور دراز علاقوں سے لوگ دیوانہ وار وہاں دوڑتے آتے ہیں اور کس طرح پر وہ مقام جو بالکل ایک ویرا نہ تھا خدا کے فضل سے مرجع خلائق بن رہا ہے اور کس کثرت کے ساتھ برکات کا نزول ہوتا ہے۔پھر فرماتا ہے کہ حضرت ہاجرہ کی بھی خصوصیت نہیں بلکہ جو صبر کرے اجر پائے گا۔وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا ۚ فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرُ ( تشحیذ الاذہان جلدے نمبرے۔جولائی ۱۹۱۲ء صفحہ ۳۲۸،۳۲۷) عليم۔علِیم۔۱۶۴ - وَالهُكُمْ الهُ وَاحِدٌ : لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ - ترجمہ۔تمہارا معبود و مقصود و مطلوب ایک ہی ہے کوئی معبود نہیں بجز اس کے وہ رحمان رحیم ہے۔تفسیر۔تمہارا معبود صرف ایک ہی ہے جسے اللہ کہتے ہیں۔ہر ایک کا ملہ صفت سے موصوف۔ہر ایک برائی سے پاک۔بن مانگے احسانات کرنے والا۔مانگنے والوں کے سوال و محنت پر عنایت فرما۔